ولکن شُبّھہ لھم — Page 34
محض ڈھکوسلہ ہے کہ یقیناً ان روایات پر آپ کی نظر نہیں یا پھر اس فیصلہ کے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ عالم تو ہیں مگر تقومنی سے عاری ہیں کہ اتنے ٹھوس علمی دلائل سے صرف نظر کر جانا محض ہیر پھیر کرنے والے کو زیب دیتا ہے، ایک عالم دین ایسی جسارت نہیں کر سکتا۔اب ذرا ان روایات کا حال بھی معلوم کر لیجیے جو آپ نے اپنے عقیدہ حیات مسیح کے حق میں پیش کی ہیں در منشور کے حوالے سے ابن عباس کا جو قول آپ نے پیش کیا کہ مُتَوَفِّيكَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ کہ آخری تھانے میں تجھے وفات دوں گا اول تو یہ لاسند قول ہے اور کسی مستند کتاب میں مع سند یہ قول موجود نہیں نہ تفسیر ابن جریر طبری میں نہ ہی تفسیر ابن کثیر میں اور نہ تفسیر ابن عباس میں پھر اس قول پر کیسے اعتماد کیا جائے اور کیوں اُس کے مقابل پر امام بخاری کی مستند مسیح روایت کو ترک کیا جائے جو وفات عیسی کا صاف اعلان کر یہ ہی ہے۔آپ کی بوکھلاہٹ کی حد یہ ہے کہ بخاری کی ایسی مستند روایت کو رد کرنے کے لیے آپ نے ایسی روایت تلاش کی جس کی نہ سند کسی مستند کتاب سے لی اور ویسے بھی پر حضرت ابن عباس کی بجائے روایت نقل کرنے والے کا عقیدہ معلوم ہوتا ہے اور ایسی بیشمار مثالیں ہیں کہ لوگ اپنی رائے ابن عباس کی طرف منسوب کر دیتے تھے۔اس لیے آپ کی پیش کردہ روایت کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔دوسرے متوفیک سے آخری زمانے میں مسیح کی توفی یعنی موت مراد لینے سے لازم آتا ہے کہ ان کا رفع ابھی نہیں ہوا کیونکہ متون تک کے بعد رافعک آیا ہے اور یہ عقیدہ وخلاف قرآن ہے قرآن واشگاف لفظوں میں اعلان کر رہا ہے کہ یہود نا مسعود مسیح کو صلیب پر مانہ کے مطابق تو بیت لعنتی ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ مسیح کا رفع روحانی مندافرمایا۔بَلْ تَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ۔اور آپ کا یہ خیال کہ عالم الغیب خدا کے کلام میں بیان کردہ