ولکن شُبّھہ لھم — Page 12
% ۱۲ میں منتقل ہو کر تشریف لائیں گے نہ کہ اپنے وجود کے ساتھ۔اب کہاں گیا آپ کا اجماع ؟ گزشتہ تیرہ صدیوں میں اس مزعومہ اجماع کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں۔علامہ این الوری کی شہادت ملاحظہ ہو۔وقَالَتْ مرقة نزول عيسى خُرُوجُ رَجُلٍ يَشْبَهُ عِيسَى فِي الفَضْلِ وَ الشَّرْن كَمَا يُقَالُ لِلرُّجُلِ الخَيْر مَلَكَ وَلِتَزِيرِ شَيْطَانَ تَشِيمًا بِهِمَا وَلَا يُراد الاعيان و خريدة العجائب وفريدة الغرائب مساع تالیف سراج الدين ابو شخص عمر بن الوردی متوفی ۷۴۹ مضطح ابال العلمي مصر - الطبعة الثانية اور ایک گروہ کہتا ہے کہ نزول عیسی سے مراد ایسے شخص کی آمد ہے جو فضیلت اور شرف میں علینی سے مشابہ ہو جیس طرح اچھے آدمی کو فرشتہ اور بڑے کو شیطان کہہ دیتے ہیں اور اس سے مراد فرشتہ دشیطان نہیں بلکہ ان سے مشابہت ہوتی ہے۔۱۲ - امام ابن حزم وفات مسیح کے قائل ہیں اپنی کتاب المحملی میں فرماتے ہیں:۔وَإِنَّ عَلَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يُقْتَلُ وَلَمْ يَصْلَبُ وَلكِنْ تَوَفَّاهُ اللهُ عز وجل ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَيْهِ لا ل الحمل للحافظ ابی محمد علی بن حزم الاندلسی المظاهر مى الجزء الاول ۲۲ مطبعته الامام ۱۳- شارع قرتول المنشيه بالقاعة بصر) یعنی علی علیہ السلام نہ قتل ہوئے نہ صلیب پر مار گئے لیکن اللہ تعالی نے ان کو وفات دی پھر ان کو رفعت بخشی۔۱۳ - امام اکبر سلامه محمود شلتوت مفتی مصر نے الفتاوی میں نہایت شد و مد سے وفات عیلی کا فتویٰ دیا ہے ، فرماتے ہیں :-