ولکن شُبّھہ لھم — Page 11
رَفْعَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّصَالَ رُوحِهِ عِنْدَ الْمُفَارَقَةِ مَنِ المِ السَّفْلِي بِالْعَالَمِ الْعَلوي (تفسير القرآن الكريم للشيخ الأكبر العارف بالله العلامة محي الدين بن عربي المتوفى سنة ست مجرته تحقيق وتقديم الدكتور مصطفى غالب المجلد الاول من دار الاندلس للطباعة والنشر و التوزيع - بيروت) بینی حضرت سی کا رفع در اصل ان کی روح کے عالم سفلی سے جدا ہو کر عالم علومی میں قرار کپڑنے کا نام ہے۔یہاں یہ امر یادر ہے کہ علامه ابن عربی کا تعلق ان بزرگ صوفیاء سے ہے جنہوں نے مبیع کی آمد ثانی کی میگوئی سے ان کا ایک دوسرے قسم کے ساتھ روحانی نزول مرادیا ہے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں :- وَلَمَّا كَانَ مَرْجَعَة إِلَى مَفْرِهِ الأصلي وَلَمْ يَصِلْ إِلَى انْكَمَالِ الخَية وجب نزوله فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِتَعَلَّقِهِ بِبَدَنِ آخَرَة (تفسیر ابن عربی حواله مذکور) یعنی جب مسیح کا مرجع اپنی اصلی منقر کی طرف ہے اور ابھی وہ اپنے حقیقی کمال کو نہیں پہنچا سلنڈا آپ کا نزول آخری زمانہ میں ایک دوسرے جسم کے ساتھ تعلق کی صورت میں واجب ہے۔نہی شہادت علامہ معراج الدین ابن الوردی (۹، ان اپنی کتاب میں دی ہے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ حضرت عیسی کے نزول کے یہی معنی سمجھتا رہا ہے۔کہ وہ ایک اور وجود