حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 15
15 چکاری نہ کیا کرتے تھے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت، صدق، وفا میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔پس اس دعا کی تعلیم سے یہ سکھایا کہ نیکی اور انعام ایک الگ شئی ہے۔جب تک انسان اُسے حاصل نہیں کرتا اس وقت تک وہ نیک اور صالح نہیں کہلا سکتا۔اور منعم علیہ کے زمرہ میں نہیں آتا۔اس سے آگے فرمایا: غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين۔اس مطلب کو قرآن شریف نے دوسرے مقام پر یوں فرمایا ہے کہ مومن کے نفس کی تکمیل دور بتوں کے پینے سے ہوتی ہے۔ایک شربت کا نام کا فوری ہے اور دوسرے کا نام زنجبیلی ہے۔کافوری شربت تو یہ ہے کہ اس کے پینے سے نفس بالکل ٹھنڈا ہو جاوے اور بدیوں کے لئے کسی قسم کی حرارت اس میں محسوس نہ ہو۔جس طرح پر کا فور میں یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ زہریلے مواد کو دبا دیتا ہے۔اسی لئے اسے کافور کہتے ہیں۔اسی طرح پر یہ کا فوری شربت گناہ اور بدی کی زہر کو دبا دیتا ہے۔اور وہ موادِر ڈیہ جو اُٹھ کر انسان کی روح کو ہلاک کرتے ہیں اُن کو اُٹھنے نہیں دیتا بلکہ بے اثر کر دیتا ہے۔دوسرا شربت شربت زنجبیلی ہے جس کے ذریعہ سے انسان میں نیکیوں کے لئے ایک قوت اور طاقت آتی ہے اور پھر حرارت پیدا ہوتی ہے۔پس اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت علیھم تو اصل مقصد اور غرض ہے۔یہ گویازنجبیلی شربت ہے۔اور غیر المغضوب عليهم ولا الضالین کا فوری شربت ہے۔اب ایک اور مشکل ہے کہ انسان موٹی موٹی بدیوں کو تو آسانی سے چھوڑ بھی دیتا ہے۔لیکن بعض بدیاں ایسی باریک اور مخفی ہوتی ہیں کہ اول تو انسان مشکل سے انہیں معلوم کرتا ہے اور پھر ان کا چھوڑ نا اُسے بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ محرقہ بھی گو تخت تپ ہے۔مگر اس کا علاج کھلا کھلا ہوسکتا ہے۔لیکن تپدق جو اندرہی کھا رہا ہے اس کا علاج بہت ہی مشکل ہے۔اسی طرح پر یہ باریک اور مخفی بدیاں ہوتی ہیں جو انسان کو فضائل کے حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔یہ اخلاقی بدیاں ہوتی ہیں جو ایک