حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 14
14 زیادہ کچھ نہیں۔مگر وہ جماعت (جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں کیا ہے کہ انہوں نے ایسے اعمال صالحہ کئے کہ خدا تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو گئے ) صرف ترک بدی ہی سے نہ بنی تھی۔انہوں نے اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بیج سمجھا۔خدا تعالیٰ کی مخلوق کو نفع پہنچانے کے واسطے اپنے آرام و آسائش کو ترک کر دیا۔تب جا کر وہ ان مدارج اور مراتب پر پہنچے کہ آواز آ گئی رَضِيَ اللَّهُ عَنهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ کسب خیر تو بڑی بات ہے اور وہی اصل مقصد ہے لیکن وہ تو ترک بدی میں بھی سُست نظر آتے ہیں۔اور ان کاموں کا تو ذکر ہی کیا ہے جو صلحاء کے کام ہیں۔پس تمہیں چاہئے کہ تم ایک ہی بات اپنے لئے کافی نہ سمجھ لو۔ہاں اول بدیوں سے پر ہیز کرو۔اور پھر ان کی بجائے نیکیوں کے حاصل کرنے کے واسطے سعی اور مجاہدہ سے کام لو اور پھر خدا تعالیٰ کی توفیق اور اس کا فضل دعا سے مانگو۔جب تک انسان ان دونو صفات سے متصف نہیں ہوتا یعنی بدیاں چھوڑ کر نیکیاں حاصل نہیں کرتا وہ اس وقت تک مومن نہیں کہلا سکتا۔مومن کامل ہی کی تعریف میں تو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ فرمایا گیا ہے۔اب غور کرو کہ کیا اتنا ہی انعام تھا کہ وہ چوری چکاری رہزنی نہیں کرتے تھے۔یا اس سے کچھ بڑھ کر مراد ہے؟ نہیں۔اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں تو وہ اعلیٰ درجہ کے انعامات رکھے گئے ہیں جو مخاطبہ اور مکالمہ الہیہ کہلاتے ہیں لیے اگر اسی قدر مقصود ہوتا جو بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ موٹی موٹی بدیوں سے پر ہیز کرنا ہی کمال ہے تو انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا تعلیم نہ ہوتی۔جس کا انتہائی اور آخری مرتبہ اور مقام خدا تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔انبیاء علیہم السلام کا اتنا ہی تو کمال نہ تھا۔کہ وہ چوری المائده: ۱۲۵، ۲ الحکم جلد ۹ نمبر ۲ صفحه ۲ ۳ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۵ء۔