دینیات کی پہلی کتاب — Page 89
۸۹ ۱۸۸۴ء کے آخر میں خُدائی بشارات کے ماتحت دہلی کے ایک معز ز خاندان میں آپ کی دوسری شادی ہوئی۔آپ کی زوجہ محترمہ کا نام حضرت نصرت جہان بیگم صاحبہ ہے۔جو ۶ ۸ سال کی عمر میں مورخہ ۲۰ ۲۱ / اپریل ۱۹۵۲ء کی درمیانی رات کو ربوہ (پاکستان ) میں وفات پاگئیں۔آپ جماعت احمدیہ میں اُم المومنین یعنی مومنوں کی ماں کہلاتی ہیں۔آپ کی اس نیک اور پارسا بیوی سے تمام اولاد اللہ تعالیٰ کی بشارت سے پیدا ہوئی ہے۔جنوری ۱۸۸۶ء میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ہوشیار پور جا کر ۴۰ دن تک خلوت میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔جس کے نتیجہ میں خدا نے آپ کو ایک خاص فرزند دینے کا وعدہ فرمایا جس کے آنے کو اپنے جلال اور نور کے پھیلانے اور اسلام کی ترقی اور غلبہ کا موجب قرار دیا۔چنانچه بروز ہفتہ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء ده فرزند پیدا ہوا۔جن کا نام نامی اور اسم گرامی حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد ہے۔جو ہمارے موجودہ امام حضرت مرزا مسرور احمد صاحب کے نانا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے خلیفہ اور مصلح موعود تھے۔جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا مرتبہ عطا فرمایا۔اور خدا کے الہام کے مطابق اُن سے قو میں برکتیں حاصل کرتی رہیں۔امیر رستگار ہوتے رہے۔اور خُدا کا جلال دُنیا میں ظاہر ہوا۔دو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو آپ نے یکے بعد دیگرے اللہ تعالیٰ سے حکم پا کر بیعت لینے کا اشتہار شائع فرمایا۔اور مارچ ۱۸۸۹ء میں بمقام لدھیانہ قریبا چالیس آدمیوں نے آپ کے ہاتھ پر اس