دینیات کی پہلی کتاب — Page 62
۶۲ شوال شه ھ جنوری و فروری ۲۳۰ غز و چنین فتح مکہ کے بعد حضور" کو پتہ چلا کہ حنین کے مقام پر جو مکہ سے تھوڑے فاصلہ پر تھا ہوازن قبیلہ کے لوگ جمع ہورہے ہیں۔حضور بارہ ہزار کا لشکر لے کر جن میں دو ہزار کے قریب نو مسلم بھی تھے اور جو نئے نئے جوش کی وجہ سے سب سے آگے تھے نکلے۔آخر دونو گروہوں کا مقابلہ ہوا۔ہوازن کے مشاق تیر اندازوں نے تیروں کی ایسی بوچھاڑ کی کہ ان نومسلموں میں بھا گڑسی بچ گئی۔اور ان کی وجہ سے دوسرے حصہ لشکر میں بھی بھا گڑ پڑ گئی صحابہ کرام اپنی سواریوں کو پیچھے موڑتے تھے۔مگر وہ آگے بھاگتی تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سوائے حضرت عباس کے اکیلے رہ گئے۔آخر حضرت عباس کے آواز دینے پر صحابہ کرام واپس مڑے۔اور ایک ایسا زور کا حملہ کیا کہ لشکر ہوازن کے چھکے چھوٹ گئے۔۶ ہزار قیدی بنائے گئے جو بعد میں بطور احسان چھوڑ دئے گئے۔جب شده ۶۳۰ ، غزوہ تبوک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومعلوم ہوا کہ شام کی سرحد پر عیسائیوں کا ایک بہت بڑا لشکر حملہ کی تیاری میں مصروف ہے۔تین ہزار فوج لے کر آپ رجب کے مہینے میں جنگ کے لئے نکلے مگر وہاں دشمن نہ ملا۔وہاں کے رؤساء سے معاہدات کر کے آپ واپس تشریف لائے۔اس جنگ میں سب مسلمانوں کے لئے شامل ہونا آپ نے ضروری قرار دیا تھا۔جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے اکثر تو ان میں سے مُنافقین تھے جو بہانے بنا کر بچ گئے۔مگر تین