دینیات کی پہلی کتاب — Page 53
۵۳ دو انصاری بچوں کا نمونہ جہاں آپ ٹھیرے تھے اس کے پاس ہی دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی ایک شکستہ ہی حویلی تھی۔آپ نے وہاں مسجد بنوانے کی تجویز کی۔اُن بچوں کو بلا کر ان سے سودا کرنا چاہا۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اس کا معاوضہ قیامت کو ہم اپنے اللہ سے لیں گے۔آپ بڑی خوشی سے جو چاہیں اس پر بنوائیں۔مگر آپ نے اصرار کر کے قریبا ۹۰ روپے دے کر وہ زمین خرید لی۔وہاں حضور کی ازواج مطہرات کے حجرے اور مسجد نبوی تعمیر ہوئی۔انصار و مہاجرین میں بھائی چارہ جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے آئے تھے۔انہیں مہاجرین کہتے تھے۔اور جنہوں نے مدینہ میں اپنے ان غریب بھائیوں کی مدد میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی اُن کو انصار کہتے تھے۔حضور نے اس کو زیادہ پختہ کرنے کے لئے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کا آپس میں بھائی چارہ قائم کر دیا۔پھر کیا تھا۔انصار نے رہی سہی کسر بھی نکال دی حتی کہ بعض نے اپنے اموال اور اپنی زمینیں تک نصفا نصف کر کے اپنے مہاجر بھائی کو دینی چاہیں۔مگر مہاجرین کی سیر چشمی نے اسے قبول نہ کیا۔وہ خو د تجارت میں مشغول ہو گئے۔اور اس طرح دوسروں پر بوجھ بننے کی بجائے اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے۔یہود سے معاہدہ ہجرت کے پہلے سال (مسلمانوں میں جس سن کا رواج ہو اوہ ہجرت کے ہی واقعہ