دینیات کی پہلی کتاب — Page 45
۱۳ به نبوی اپریل ۱۲۲ ء بیعت عقبہ ثانیہ اِس سال بھی ایام حج میں مدینہ سے قریبا ۷۲ آدمی آئے۔جن میں دو عورتیں بھی تھیں۔مبلغ اسلام حضرت مصعب بن عمیر بھی اُن کے ساتھ تھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے آنے کی اطلاع ملی تو آپ نے رات کے وقت عقبہ یعنی گھائی میں ملاقات کا وقت مقر ر کیا۔چنانچہ آپ رات کے وقت اپنے چچا عباس کے ساتھ وہاں پہنچے۔حضرت عباس گو اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے مگر آپ کے ہمدرد تھے۔اور آپ سے محبت رکھتے تھے۔اتنے میں انصار مدینہ کے لوگ بھی پہنچ گئے۔جب ان لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ حضور ہمارے پاس مدینہ تشریف لے چلیں تو اس پر حضرت عباس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا:۔”اے خزرج کے گروہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے گھرانے کے معزز ترین فرد ہیں۔اُن کا خاندان ان کی پوری حفاظت کرتا ہے۔اگر تم لوگ اُن کی حفاظت کر سکو تو انہیں اپنے ساتھ لے جاؤ۔ورنہ ابھی سے جواب دے دو۔جب حضرت عباس بات کر چکے تو البراء بن معرور نے کہا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سکتا چاہتے ہیں۔آپ نے ایک مختصر تقریر فرمائی جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ذکر فرمایا۔ابو الہیشم نامی شخص نے عرض کی۔یا رسول اللہ ! ہمارے یہود کے ساتھ تعلقات ہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو جب اللہ تعالیٰ غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر چلے آئیں۔پھر