دینیات کی پہلی کتاب — Page 42
ول الله كان سخت بیمار ہو گئے۔اُن کی موت کا وقت قریب تھا کہ آپ نے جا کر انہیں اسلام لانے کے لئے کہا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ:۔وو چا! اگر آپ صرف کلمہ شہادت ہی پڑھ دیں تو میں قیامت کے دن آپ کی شفاعت کروں گا۔“ ابو طالب نے کہا :۔دو بھتیجے ہمیں ایسا کر لیتا مگر قریش کیا کہیں گے کہ ابوطالب موت سے ڈر کراپنے باپ دادوں کا مذہب بھی چھوڑ گیا۔“ اس کے تھوڑے عرصہ بعد ابو طالب ۸۰ برس کی عمر پا کر اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔رمضان ۱۰ نبوی حضرت خدیجہ کا انتقال اسی سال رمضان شریف میں آپ کی ہمدرد، وفادار، خدمت گزار پیاری اور نہایت پارسا بیوی حضرت خدیجہ کا بھی انتقال ہو گیا۔ابو طالب اور حضرت خدیجہ کی وفات سے آپ کے یہ دو مضبوط دُنیاوی سہارے بھی جاتے رہے۔نبوی مطابق جنوری ۶۲۰ سفر طائف مکہ والوں کی مخالفت اور انکار کو روز بروز بڑھتے دیکھ کر آپ نے طائف والوں کو تبلیغ کرنے کا عزم کیا۔طائف مکہ کے مقابلہ کا شہر تھا۔اور مکہ سے تین منزل کے فاصلہ پر تھا۔آپ نے اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو ساتھ لیا۔اس شہر میں پہنچ کر شہر کے رؤساء کو تبلیغ کی۔مگر سب نے انکار کیا اور جنسی اُڑائی۔آخر آپ شہر کے سب سے بڑے