دینیات کی پہلی کتاب

by Other Authors

Page 29 of 134

دینیات کی پہلی کتاب — Page 29

۲۹ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔آپ کی عمر اس وقت ۲۵ برس کی تھی۔اور حضرت خدیجہ کی ۴۰ برس کی۔لیکن آپ نے اسے بخوشی منظور کر لیا۔ابو طالب نے ۵۰۰ درہم حق مہر پر آپ کا نکاح پڑھا۔اس بی بی سے آپ کے دولڑ کے ہوئے اور چارلڑ کیاں۔بڑے بیٹے کا نام قاسم تھا۔جس کی وجہ سے آپ کی کنیت ابو القاسم تھی۔آپ کی بیٹیاں رقیہ ، زینب ، ام کلثوم اور حضرت فاطمہ تھیں۔حضرت فاطمہ حضرت علیؓ سے بیاہی گئیں۔سیدوں کا خاندان انہی سے چلا ہے۔تعمیر گغبه جب آپ کی عمر ۳۵ برس کی تھی تو قریش نے کعبتہ اللہ کو ز سر نو تعمیر کیا۔اس میں دو عجیب واقعات ہوئے جن کا تعلق خاص طور پر آپ کی ذات سے ہے۔پہلا واقعہ یہ ہے کہ کعبہ کی دیواروں کے لئے لوگ پھر لا رہے تھے۔آپ بھی پتھر لاتے تھے۔دوسرے بچے اپنے کئہ بند اتار کر کندھوں پر رکھ کر پتھر لا رہے تھے۔آپ نے بھی اپنے چچا کے اصرار پر کہ بندا تارا ہی تھا کہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔مگر پھر آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب حجر اسوڈ رکھنے کا موقعہ آیا تو ہر قبیلہ کے سردار نے چاہا کہ یہ شرف اُسی کے حصہ میں آئے۔اس پر سب سردار آپس میں لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے۔آخر ایک شخص نے کہالڑومت جو شخص سب سے پہلے اس دروازہ سے آئے اُس سے فیصلہ کرالو۔اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرہے ہیں۔آپ اندر داخل ہوئے تو سب خوشی سے اُچھل پڑے۔اور آپ سے فیصلہ چاہا۔آپ نے کمال دانائی سے فرمایا کہ ایک چادر لاؤ۔چادر لائی گئی۔آپ نے اس میں حجر اسود کھا اور سب سرداروں