دینیات کی پہلی کتاب — Page 121
تیرھواں ادب ل الدرام یہ ہے کہ دورانِ گفتگو میں نہ بولے۔اُٹھ کر چپ چاپ کھڑا ہو جائے۔صدر مجلس خود مخاطب کرے گا۔چودھواں ادب یہ ہے کہ مجلس میں میر مجلس کو مخاطب کرے۔کسی اور کو نہ کرے۔پندرھواں ادب یہ ہے کہ اگر مجلس میں کسی شخص سے کوئی طبعی حرکت سرزد ہو جائے تو ہنسنا نہیں چاہئیے۔کیونکہ ایسی حرکت اُس سے بھی ممکن ہے۔لوگ اُس پر بھی ہنسیں گے۔اور اُسے شرمندہ ہونا پڑے گا۔پس دُوسرے کے لئے وہ بات پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند نہیں کرتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صرف اسی بات پر ایک خطبہ پڑھا۔پس رکسی کے اُونگھ جانے پر یا غلط جواب دینے پر یا ہوا خارج ہونے پر ہنسنا نہیں چاہئیے۔ہوسکتا ہے کہ یہ نقص اس میں بھی پیدا ہو جائے۔اور اُس سے بڑھ کر لوگ اس پر ہنسیں۔سولھواں ادب جب مجلس کی کاروائی شروع ہو جائے تو کسی بڑے آدمی کے آجانے پر تعظیم کے لئے اٹھنا بھی ٹھیک نہیں۔کیونکہ اب میر مجلس کا حق ہے کہ وہ تعظیم کرے یا نہ کرے۔سترھواں ادب یہ ہے کہ مجالس میں کوئی ایسی چیز کھا کر نہ جائے جس سے لوگوں کو تکلیف ہو۔نہ ایسا لباس پہن کر جائے جس سے بدبو آتی ہو۔اور تعفن کی وجہ سے لوگ کراہت کریں۔اس لئے مجلس میں نہا دھو کر جائے۔اسی طرح مجلس میں تھوکنا بھی ادب کے خلاف ہے۔