دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 94 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 94

94 فصل پنجم دس ملکی و غیر ملکی شخصیات سے ملاقات) جناب سید ابوالاعلی مودودی صاحب: سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب اور اُن کے رفقا برٹش انڈیا کے زمانہ سے یہ پراپیگینڈا کرتے آرہے تھے کہ جمہوری اسمبلیوں کی رکنیت بھی حرام اور ان کو ووٹ دینا بھی حرام ہے۔(رسائل و مسائل) جمہوری انتخاب زہر یلے دودھ کا مکھن ہے۔چونکہ ہزار میں سے ۹۹۹ مسلمان کافرانہ ٹائپ رکھتے ہیں اس سے کسی بھی جمہوری انتخاب سے نظام اسلام قائم نہیں ہوسکتا۔(مسلمانان ہند کی سیاسی کشمکش حصہ سوم ) جناب مودودی صاحب ۳۱ اگست ۱۹۴۷ء کو دار الاسلام ( پٹھان کوٹ ) چھوڑ کر لا ہور میں پناہ گزین ہوئے جس کے بعد پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کے لیے ”اسلام“ کا نعرہ بلند کیا اور جب پہلا صوبائی انتخاب ہوا تو آپ نے انتخابی جدوجہد پمفلٹ میں احادیث سے ثابت کیا کہ عہدہ طلبی سراسر حرام ہے۔نیز دو دستوری خاکے میں برسراقتدار مسلم لیگی حکومت کے خلاف ملک گیر پراپیگنڈا کیا کہ انتخابی پراپیگنڈا کی اسلام میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔اسی پر بس نہیں جماعت اسلامی کے ترجمان کوثر ( ۲۸ جنوری ۱۹۵۰ء) نے انتخابی مہم کو کتوں کی دوڑ سے تشبیہ دے کر صوبائی انتخاب میں شامل ہونے والی سب سیاسی جماعتوں کی ضیافت’ صالح مغلظات“ سے فرمائی۔پاکستان کے پہلے صوبائی انتخابات کے دوران میں جامعتہ المبشرین کا طالب علم تھا۔مجھے اخبارات سے پتہ چلا کہ جناب مودودی صاحب مع اپنے رفقاء کے انتخابی اور طوفانی دورہ پر چنیوٹ تشریف لا رہے ہیں اور پرانی سبزی منڈی میں خطاب عام بھی فرمائیں گے۔میں ۱۹۴۸ء کے اوائل میں لاہور گیا تو مختصری ملاقاتیں حضرت مولا نا محمد علی صاحب امیر جماعت لاہور اور علامہ عنایت اللہ خان مشرقی کے علاوہ جناب سید ابوالاعلی صاحب مودودی بانی