دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 56
56 تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت آنحضور ﷺ کے عقد میں گیارہ ازواج تھیں۔لہذا تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدائے عزوجل نے اپنے محبوب رسول کو کم از کم گیارہ محمدی بیگموں کا یقینی وعدہ کیا۔یہ میں اس لیے کہتا ہوں کہ مجدد اسلام علامہ سیوطی اور دوسرے بزرگ مفسرین کا اتفاق ہے کہ اگر عسی کا حرف خدا کے لیے استعمال ہو تو اس کے معنی یقینی اور قطعی کے ہوتے ہیں مثلا عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (بنی اسرائیل: ۸۰) اس تشریح کے بعد میں نے ان صاحب سے دوٹوک الفاظ میں سوال کیا کہ اگر کوئی گستاخ رسول یہ اعتراض کرے کہ تمہارے نبی کو گیارہ "محمدی بیگمات کی جو قرآنی بشارت ملی وہ غلط نکلی تو آپ کیا جواب دیں گے۔نام نباد محافظ ختم نبوت“ سکتے میں آگئے۔پھر بولے یہ پیشگوئی آنحضور علیہ السلام کے طلاق دینے سے مشروط تھی۔نہ آنحضرت نے طلاق دی نہ گیارہ نئی ازواج آپ کو دی گئیں ھے اپنے دام میں صیاد آ گیا اس پر میں نے بھی یہی جواب دیا کہ حضرت مسیح موعود کی محمدی بیگم سے نکاح کی پیشگوئی بھی اُس کے خاوند کی مخالفت اور اس کے نتیجہ میں اس کی موت کے ساتھ مشروط تھی۔خود حضرت اقدس واضح الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں: "ماكان الهام في هذه المقدمه الا كان معه شرط (ضمیمه انجام آتھم صفحه ۲۲۳ طبع اول ۱۸۹۶ء) یعنی اس پیشگوئی کے متعلق کوئی الہام ایسا نہیں کہ اس کے ساتھ شرط نہ ہو۔