دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 45
45 محمد الحق صاحب وزیر آبادی تھے جو ایک ماہنامہ غالباً اولی الامر“ کے ایڈیٹر بھی تھے۔آپ ماشاء اللہ بہت حیم و شیم اور فربہ جسم کے تھے۔ایک وسیع حویلی بغرض مباحث مختص کی گئی۔گاؤں میں زیادہ تعداد سنی مسلمانوں کی تھی۔استاذی المحترم خالد احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے میرے استفسار پر ایک دفعہ بتا یا تھا کہ میں نے ہر مناظرہ سے پہلے حضرت مسیح پاک کا یہ دعائیہ شعر سجدہ میں نہایت تضرع اور گریہ وزاری سے پڑھا ہے۔میرے سقم و عیب سے اب کیجئے قطع نظر تانبو خوش دشمنِ دیں جس پہ ہے لعنت کی مار میں نے بھی نماز ظہر و عصر کے دوران سجدہ گاہ کو اس رقت بھری دعا کے ساتھ تر کر دیا اور بارگاہ خداوندی میں عاجزانہ التجا کی کہ تیرا وعدہ ہے کہ میں مسیح موعود کی نصرت کا ارادہ کرنے والوں کی بھی نصرت کروں گا۔میں پہلی بار میدان میں قدم رکھ رہا ہوں۔میں کم عمر اور بے علم اور نا تجربہ کار ہوں۔اپنے پاک وعدہ کے مطابق مصلح موعود کے اس نالائق خادم کی تائید فرما۔یہی دعا کرتے ہوئے میں چند احمدی بزرگوں کے جلو میں احاطہ میں داخل ہوا اور مقررہ کرسی پر بیٹھ گیا۔حویلی سامعین سے بھری ہوئی تھی اور احمدی معدودے چند تھے۔حکیم محمد اسحاق صاحب کی نظر جو نہی مجھ پر پڑی انہوں نے میرا قد اور کمز ور جو دیکھتے ہی خوب مذاق اڑایا اور فرمایا قادیانیو! کسی آدمی کو میرے مقابل پر لانا تھا۔میں نے تو آپ کے چوٹی کے علماء کو میدان بحث میں لتاڑا اور پچھاڑا ہے اور شکست فاش دی ہے۔یہ سن کر مجھے اپنے اندر ایک غیبی جوش اور طاقت محسوس ہوئی۔میں فوراً کھڑا ہو گیا اور بلند آواز سے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ابھی تو مناظرہ شروع بھی نہیں ہوا۔انشاء اللہ ابھی پتہ چل جائے گا کہ اصحاب الفیل کون ہیں اور ابابیل کون؟ یہ سن کر پوری مجلس میں سناٹا چھا گیا اور ان مخلص احمدیوں کی بھی جان میں جان آگئی جو مرکز کی طرف سے ایک نامی گرامی مناظر کے مقابلہ کے لئے ایک طالب علم بھیجوانے پر میرے نارنگ اسٹیشن پہنچتے ہی بر ملا اپنی تشویش و اضطراب کا اظہار فرما چکے تھے لیکن اس پہلی للکار نے انہیں اتنا ضرور محسوس کر دیا کہ اس بچہ میں بھی کچھ دم خم اور روح موجود ہے۔