دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 37 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 37

37 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو مانگا اس سے بڑھ کر ان کو دیا۔اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے جو مانگا اس سے بڑھ کر ان کو دینا۔اب درجہ کے لحاظ سے فرق یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے عرفان کے مطابق اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں اور رسول کریم ہے نے اپنے عرفان کے مطابق۔کیونکہ جتنی جتنی معرفت ہوتی ہے اس کے مطابق۔صلى الله مطالبہ کیا جاتا ہے۔۔جب رسول کریم ہے عرفان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑھے ہوئے تھے تو یقینی بات ہے کہ آپ کی دعائیں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں سے بڑھی ہوئی ہوں گی۔پس درود میں جو دعا مانگی جاتی ہے اس کا صحیح مطلب یہ ہوا کہ البی حضرت ابراہیم نے آپ سے جو مانگا انہیں آپ نے اس سے بڑھ کر دیا۔اب محمد اللہ نے جو مانگا انہیں بھی مانگنے سے بڑھ کر عطا کیجئے۔دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنی ہوئے کہ جو کچھ حضرت ابراہیم کو ملا محمد مے کو اس سے بڑھ کر دیا جائے اور وہ چیز جس کے لیے حضرت ابراہیم سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کو دینے کی دعا کی گئی ہے یہی ہے کہ حضرت ابراہیم نے امت مسلمہ مانگی۔ان کی نسل میں نبوت قائم کر دی گئی۔رسول کریم ہے نے اپنی امت کے لیے ان سے بڑھ کر دعا کی۔اس لیے آپ کی امت کو ان کی امت سے بڑھ کر نعمت دی جائے۔اس نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے درود کو دیکھو تو معلوم ہوسکتا ہے کہ کتنے عظیم الشان مدارج کے حصول کے لیے ہمیں دعا سکھائی گئی ہے۔“ الفضل ۱۳؍ جنوری ۱۹۲۸ء صفحه ۸ خطبه فرموده ۶ /جنوری ۱۹۲۸ء قادیان)