دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 27
27 23- خدائی نصرتوں کا ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد ایک عظیم الشان دروازہ کھل گیا اور پاکستان کے طول و عرض سے ہر جمعرات کو خلیفہ راشد حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے حضور بکثرت وفود آنے لگے۔حضور انور کا ارشاد تھا کہ تم شام تک خلافت لائبریری میں رہوتا میری ملاقات کے بعد اصل حوالے دکھا سکو یا مزید استفسارات کے جواب دے سکو۔چنانچہ کئی برسوں تک عاجز کو اس خدمت کی توفیق ملی۔خدا کے فضل سے ابتلا کے ان پرفتن ایام میں بہت سی سعید روحیں حلقہ بگوش احمدیت ہوئیں۔ایک بار وفد کے بعض غیر از جماعت معززین نے یہ اعتراض خوب اچھالا کہ احمدی یقینا ختم نبوت کے منکر ہیں۔خاکسار نے حضرت مسیح موعود کی کتاب براہین احمدیہ (حصہ چہارم طبع اول صفحه ۵۰۲-۵۰۳ حاشیه در حاشیه مطبوعہ ۱۸۸۴ء) کا یہ الہام اُن کے سامنے رکھا: صل على محمد و آل محمد سيد ولد آدم و خاتم النبيين" درود بھیج محمد اور آل محمد پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم النبیین ہے۔( میں نے دردمند دل سے عرض کیا کہ یہ الہام قیام جماعت سے بھی چھ سال قبل کا ہے جبکہ آپ اور ہم میں سے کوئی بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔یہ جماعت احمدیہ کا الہامی دستور اور آفاقی منشور ہے جس پر ایمان لائے بغیر قیامت تک کوئی احمدی ہی نہیں ہو سکتا۔اور حقیقت ہے کہ یہ الہامی شرط دنیا کے کسی مسلمان فرقے کے داخلہ فارم میں شامل نہیں ہے۔24- حضرت مولانا عبد المالک خاں صاحب ناظر اصلاح وارشاد، مجاہد افریقہ خطابت کے شاہسوار، مشفق ہستی تھے جنہیں حق تعالیٰ نے فنافی الخلافت کی خلعت سے نوازا تھا۔اس ناچیز اور لاشنی محض سے آپ کو محض اللہ محبت تھی۔حضرت مولانا نے ملک کے طول وعرض میں کئی تبلیغی سفروں میں مجھے رفاقت کا شرف بخشا جن کی یادیں میرے لوح قلب پر ہمیشہ کے لیے نقش ہیں جو میرے لیے سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتی ہیں آہ !! یاران تیز گام نے محمل کو مجو جرس کارواں جا رہے