دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 26
26 کسی غیر از جماعت بزرگ کا ہے تو میں اُن سے بادب کہوں گا کہ جو امتی نبی خاتم النبین کی غلامی میں برپا ہو چکا ہے پہلے اُس کو تو صدق دل سے قبول فرما ئیں وگرنہ ایسا سوال ”ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں۔22- ۱۹۴۶ء میں جبکہ راقم الحروف جامعہ احمدیہ کا طالب علم تھا، رمضان المبارک کے دوران درس قرآن اور تراویح کے لیے بنگہ ضلع جالندھر میں مقیم تھا۔دریں اثنا مجھے مولا نا کرم الہی صاحب ظفر مجاہد سپین کے ایک عزیز ڈاکٹر فضل حق صاحب کے کلینک پر جانے کا اتفاق ہوا۔ڈاکٹر صاحب نے بنگہ کے ایک آریہ سماجی جنٹلمین سے جو پہلے ہی تشریف رکھتے تھے ، میرا تعارف کرایا۔قادیان کا نام سنتے ہی وہ جوش میں آگئے اور اعتراض کیا کہ آپ کے نبی کریم ساری عمر اهدنا الصراط المستقيم کی دعا کرتے رہے۔ثابت ہو ا معاذ اللہ انہیں آخر دم تک حق تک رسائی نہیں ہو سکی۔دوسرے یہ کہ سورہ بقرہ کے شروع میں صاف لکھا ہے کہ قرآن صرف متقیوں کو ہدایت دیتا ہے گنہ گاروں کو نہیں دے سکتا۔بھلا اس کے نزول کا فائدہ کیا ہوا۔ان اعتراضات پر ان صاحب کو بہت ناز تھا۔خود ڈاکٹر فضل حق صاحب بڑی بے تابی سے جواب کے لیے مجسم بے قرار اور پیکر اضطراب بنے ہوئے تھے۔میں نے آریہ نو جو ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہندو دھرم میں شکتی مان ایشوریا پر ماتما کو محدود ہستی بتایا گیا ہے یا غیر محدود؟ اس کا مجھے علم نہیں مگر قرآنی نظریہ کے مطابق خدا تعالیٰ بھی غیر محدود ہے اور اُس کے قرب کی راہیں بھی بے حد و بے حساب ہیں۔لہذا آنحضرت ﷺ کا پوری عمر اهدنا" کی دعا دنیا کے لیے یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص نبیوں کا شہنشاہ بھی ہو تو اس کے لیے بھی مولا کریم کے فضلوں کے بے شمار درواز۔کھلے ہیں۔جہاں تک قرآن کے ھدی للمتقین" ہونے کا تعلق ہے اس کا اصل مطلب تو یہ ہے کہ پہلی کتا ہیں اور صحیفے انسان کو زیادہ سے زیادہ متقی بنا سکتی تھیں مگر قرآن جیسی کامل کتاب متقیوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔علاوہ ازیں متقی کے معنی مسلمہ طور پر پرہیز گار کے ہیں۔اب ظاہر ہے دوا خواہ کس درجہ زوداثر ہو فائدہ صرف اُس کو ہو سکتا ہے جو علاج کے ساتھ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پر ہیز بھی کرے۔میرے جواب پر آریہ سماجی معترض بالکل ساکت و صامت ہو گئے اور ڈاکٹر فضل حق صاحب کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔