دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات

by Other Authors

Page 15 of 115

دلچسپ علمی واقعات و مشاہدات — Page 15

15 میں ایسا عظیم تغیر واقع ہو چکا تھا جس کو خدا کی نظر تو دیکھ سکتی تھی مگر کسی غیر نبی انسان کی نظر میں طاقت نہ تھی کہ قرنوں اور صدیوں کے پردے اٹھا کر اُن تک پہنچ سکتی۔“ (تنقیحات صفحه ۲۷ ناشر مکتبہ جماعت اسلامی پٹھان کوٹ ) مودودی صاحب واضح طور پر اعتراف کرتے ہیں کہ غیر نبی کی نظر آج اسلام کے صحیح خدوخال سے ہی آشنا نہیں ہو سکتی کجا یہ کہ اس کے عملی قیام کا ادعا کر سکے۔مگر یہ حضرت آخر سفر تک یہی رٹ لگاتے رہے کہ عہد حاضر کے دوسرے دساتیر عالم کی طرح جب تک قرآن کے فوجداری، دیوانی اور مالی احکام کو آرٹیکل (ARTICLE) اور کلاز (CLAUSE) میں نہ ڈھالا جائے ، اسلام کا عملی نفاذ ہر گز ممکن نہیں۔حق یہ ہے کہ قرآن مجید کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا اقرار تو کئی مستشرقین کو بھی ہے مثلاً مشہور مؤرخ ایڈورڈ گبن لکھتا ہے: "From the Atlantic to the Ganges the Koran is acknowledged as the fundamental code, not only of theology but of civil and criminal jurisprudence; and the laws which regulate the actions and the property of mankind are guarded by the infallible and immutable sanction of the will of God۔" (The decline and fall of the Roman Empire by: Edward Gibbon Page: 694-695 First published by Chatto and Windus 1960) 11- زیارت ربوہ کے لیے آنے والے وفد میں شامل ایک سنجیدہ نوجوان نے دریافت کیا کہ جب دین کامل ہو گیا تو اب کسی نبی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں نے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدہ:۴) کی مکمل آیت پڑھی اور بتایا کہ یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ اس نے چودہ سو سال قبل سکمال دین کی خوشخبری دیتے ہوئے ساتھ ہی یہ خبر بھی دے دی تھی کہ ہم نے امت پر اتمام نعمت بھی فرما دی ہے جس کے معنی سورہ یوسف کی ابتدائی آیات کے مطابق فیضانِ نبوت کے عطا کیے جانے کے ہیں۔چنانچہ ان آیات میں ہے کہ ہم نے حضرت یوسف ، آل یعقوب اور ابراہیم و اسحاق پر بھی اتمام نعمت فرمائی۔یعنی اُن کو نعمت نبوت سے سرفراز فرمایا۔انہیں از حد حیرت ہوئی کہ واقعی یہ الفاظ ㅎ