دیوبندی چالوں سے بچئے

by Other Authors

Page 47 of 62

دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 47

اس تبدیلی کے نتیجہ میں مفہوم بالکل الٹ گیا اور معنی یہ بن گئے کہ جو شخص دیکھے کہ گویا وہ خدا کی طرف چل رہا ہے تو وہ سیدھی راہ تک پہنچے گا۔افسوس اسلامی علم و معرفت کا وہ خزانہ جو صدیوں سے ہمارے بزرگوں نے اپنے سینہ سے لگا کر محفوظ رکھا تھا اور پوری دیانتداری سے ہم تک منتقل کیا تھا اس لئے غارت کر دیا گیا کہ مسیح وقت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود علیہ السلام کے اس مکاشفہ کو وجہ اشتعال بنایا جائے جس میں حضور نے دیکھا کہ گویا میں خُدا بن گیا ہوں۔( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۶۴ صفحه ۵۶۶) شمائل ترمذی : شمائل ترمذی حضرت ابو عیسی ترمذی (وفات 9 بہ ھجری ۱۹۲۶ء) کی کتاب ہے اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارک کے بارہ میں ایک حدیث درج ہے کہ انا العاقب“ کہ میں عاقب ہوں اس حدیث کے ساتھ بطور تشریح یہ عبارت ہے کہ العاقب الذی لیس بعدہ نبی اسی ترجمہ کے حسین مجتبائی دہلی اور امین کمپنی بازار دہلی میں چھپنے والے نسخوں کے بین السطور میں یہ تصریح موجود ہے کہ هَذَا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ ( یہ امام زہری کا قول ہے) علاوہ ازیں مشکوۃ کے شارح حضرت ملا علی قاری (وفات ۱۲ هجری ۲۰۶ء) نے بھی فرمایا ہے کہ۔الظاهر ان هذا تفسير للصحابي او من بعده ( مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد نمبر ۵ صفحه ۲۷۶ مطبوعه مصر ۱۳۰۹ هجری) یعنی صاف ظاہر ہے کہ "العاقب الذي ليس بعده نبي “ کسی صحابی یا بعد میں آنے والے کی تشریح ہے۔اس واضح حقیقت کے باوجود قرآن محل مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی سے ۱۹۶۱ء میں ایک شمائل ترمذی شائع کی گئی جس میں سے ھذا قولُ الزُّھری“ کے بین السطور الفاظ 47