دیوبندی چالوں سے بچئے — Page 23
لئے وسائل پیدا ہو گئے تھے ،لے (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۷۷، روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ صفحه ۲۶۳) اصل حقیقت پیش کرنے کے بعد اب ہم عرض کرتے ہیں کہ دیوبندی نے یہ اعتراض تو کر دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کی اشاعت مکمل نہیں ہوئی لیکن وہ اپنے پیر ومرشد گنگوہی صاحب کی یہ عبارت کیسے بھول گیا جس میں گنگوہی صاحب لکھتے ہیں کہ حق صرف وہی ہے جو گنگوہی کی زبان سے نکلتا ہے اور نجات اس دور میں صرف گنگوہی کی پیروی سے مل سکتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اس عبارت میں کہیں ذکر نہیں کرتے چنانچہ ہم وہ عبارت ذیل میں درج کرتے ہیں لکھتے ہیں : ئن لو ! حق وہی ہے جو رشید احمد کی زبان سے نکلتا ہے اور بقسم کہتا ہوں کہ میں کچھ نہیں ہوں مگر اس زمانہ میں ہدایت و نجات موقوف ہے میری اتباع پر “ تذكرة الرشيد جلد نمبر ۲ صفحہ ۱۷ مؤلفہ عاشق الہی میرٹھی) لیجئے مع حوالہ مکمل عبارت پیش ہے۔انصاف پسند اب خود ہی غور فرمالیں کہ کیا اس دور میں نجات مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی پیروی سے ملتی ہے یا اب بھی نجات کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی لازم ہے کیا یہ دیو بندیوں کی سراسر تو ہین رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے۔اس کے مقابلہ پر سنئے حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کیا فرماتے ہیں۔میری روح بول اُٹھی کہ نجات کی یہی راہ ہے اور گناہ پر غالب آنے کا یہی طریق ہے حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پر قدم ماریں فرضی تجویزیں اور خیالی حاشیہ لے جیسا کہ مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کے ذریعہ سے آج دنیا کے کونے کونے میں امام مہدی علیہ السلام کی جماعت تبلیغ اسلام کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔23 23