دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 90 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 90

90 معیار دوم صداقت کا دوسرا معیار مدعی کے دعوئی سے تعلق رکھتا ہے اللہ تعالیٰ سورۃ الحاقہ میں فرماتا ہے۔وَلَوْ تَقُولَ عَلَيْنَا بَعْض الأقاويل لا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ مَا جِزِينَ (الحاقه ۴۵ تا ۴۸) ترجمعہ: ”اور اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقیناً اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگِ گردن کاٹ دیتے سواس صورت میں تم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا جواُسے خدا کے عذاب سے بچا سکتا۔" استدلال اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ مدعی جھوٹا ہوتا اور جھوٹے الہام بنا کر یہ کہتا کہ یہ الہام خدا نے کیا ہے تو ہم اسے پکڑ لیتے اور جلد ہلاک کروا دیتے اُسے اتنی مہلت نہ دی جاتی کہ وہ لوگوں کو مسلسل گمراہ کرتا رہتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعوی نبوت کے بعد ۲۳ سال زندہ رہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ زندگی اس بارے میں معیار ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اتنے لمبے عرصہ تک ( جو ۲۳ سال پر ممتد ہے ) اس کا زندہ رہنا اس بات کی