دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 88 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 88

88 قطعا عادی نہیں ہوتا۔درحقیقت اس کی دعویٰ نبوت سے بعد کی زندگی بھی پاک وصاف ہوتی ہے لیکن دعویٰ نبوت کرنے کے بعد لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے الزامات لگا دیتے ہیں۔پس ایک مدعی نبوت کی صداقت کو پر کھنے کیلئے اس کی دعوئی سے قبل کی زندگی کو دیکھنا چاہئے۔اگر وہ ہر پہلو سے پاک وصاف ہے تو بلاشبہ وہ سچا ہے۔یہ ایسی دلیل ہے جو فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہے اور جاہل سے جاہل بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔اسی دلیل کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود سیچے قرار پاتے ہیں۔دیکھئے حضور علیہ السلام اپنی پاکیزہ زندگی کے بارے میں کیسی تحدی سے فرماتے ہیں:۔اب دیکھو خدا تعالیٰ نے اپنی محبت کو تم پر اس طرح پورا کر دیا ہے کہ میرے دعوئی پر ہزار ہا دلائل قائم کر کے تمہیں موقع دیا ہے کہ تا تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے خود کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی میں نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔کون تم میں سے ہے جو میری سوانح زندگی میں نکتہ چینی کر سکتا ہے۔پس یہ خدا کا فضل ہے جو اس نے ابتداء سے مجھے تقومی پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کیلئے یہ ایک دلیل ہے“۔( تذکرۃ الشہادتین صفحه ۶۲ )