دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 41 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 41

41۔اگر کسی شخص کو سحری کے وقت کھانا کھانے کا موقعہ نہیں ملا تو وہ اس عذر کی وجہ سے روزہ نہیں چھوڑ سکتا۔سحری کا کھانا روزہ کیلئے شرط نہیں۔ے۔مرض اور سفر کی حد شریعت نے مقرر نہیں کی اس کا انحصار ہر شخص کی حالت پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تعامل سے سفر کی حد گیارہ میل معلوم ہوتی ہے اور مرض کی حد یہ ہے کہ جس سے سارے بدن میں تکلیف ہویا کسی ایسے عضو میں تکلیف ہو جس سے سارا جسم بے قرار ہو جائے۔جیسے بخار یا آنکھ کا درد۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ روزہ دار کی آنکھ میں تکلیف ہو تو دوائی ڈالنا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا: یہ سوال ہی غلط ہے۔بیمار کے واسطے روزہ رکھنے کا حکم نہیں“ (ملفوظات پنجم صفحہ ۱۳۵ نیا ایڈیشن )۔جو شخص سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے وہ بھی خدا کے حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” مریض اور مسافر اگر روزہ رکھیں گے تو ان پر حکم عدولی کا فتوی لازم آئے گا“۔جو شخص صحت کی حالت میں ہے لیکن اسے خوف ہے کہ اگر میں روزہ رکھوں گا تو بیمار ہو جاؤں گا تو ایسا خوف محض نفس کا دھوکا ہے اور ہرگز شرعی عذر نہیں۔ہاں اگر طبیب کہتا ہے کہ روزہ نہ رکھو تو وہ بیمار کے حکم میں ہے۔۱۰۔جس شخص کا سفر ملازمت کے فرائض میں داخل ہے یا روزی کمانے کے