دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 202
202 ا۔ہر بچہ کم از کم میٹرک تک اور ہر بچی کم از کم مدل تک ضرور تعلیم حاصل کرے‘ (الفضل ۲۴/ اپریل ۱۹۸۱ء)۔کوئی احمدی بچہ پیچھے نہ رہے گا بلکہ آگے سے آگے بڑھے گا۔وہ ذہین بچے جو حالات کی وجہ سے آگے نہیں آسکتے انہیں جماعت سنبھالے گی۔دعائیہ لحاظ سے بھی اور مالی لحاظ سے بھی۔اس لئے عہد کرو کہ کسی سے یچھے نہیں رہنا۔آج خدا تمہیں دینے کو تیار ہے تو تمہیں لینے کو تیار ہوتا چاہئے“۔(الفضل ا/ اپریل ۱۹۸۱ء) پہلے -۱- گذشتہ جلسہ سالانہ ( یعنی ۱۹۷۹ء) پر میں نے وظائف کا اعلان کیا تھا کہ مستحق اور ذہین طلباء کو بغیر ذہنی نشو و نما کے نہیں چھوڑا جائے گا اس کا نام انعامی وظیفہ نہیں بلکہ ادا ئیگی حقوق طلباء رکھنا چاہئے سندہ دس برس کے اندر ہر احمدی قرآن کریم کی تعلیم اپنی عمر کے مطابق سیکھے۔یہ کام خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے ذمہ ہے۔۔مرحلہ میں ہر احمدی گھرانے میں ایک تو تفسیر صغیر کا ہونا ضروری ہے اور دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیان فرمودہ تفسیر قرآن بھی پڑھنی ضروری ہے۔میں نے اس سلسلہ میں خدام الاحمدیہ انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ان کے خریدنے کے لئے اپنی اپنی کلب بنائیں اور جماعت ایک کمیٹی بنائے جو ان ہر سہ تنظیموں میں Co-ordination (رابطه ) پیدا کرے۔۔۔یہ جوسکیم میں نے