دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 183
183 نظریات میں اس لئے تبدیلی کرنے پر مجبور ہوئے کہ شاید عوام میں مقبولیت حاصل ہو لیکن وہ بھی نصیب نہ ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا عہدِ خلافت اسلام کی ترقی اور بینظیر کامیابیوں کا درخشاں دور ہے۔اس باون سالہ دور میں خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نصرتوں کے ایسے عجیب در عجیب نشانات ظاہر ہوئے کہ ایک دنیا ورطہ حیرت میں پڑ گئی اور دشمن سے دشمن کو بھی یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا کہ اس زمانہ میں سلسلہ عالیہ احمدیہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور یہ کہ امام جماعت احمد یہ بے نظیر صلاحیتوں کے مالک ہیں۔آپ کے اس باون سالہ عہدِ خلافت میں مخالفتوں کے بہت سے طوفان اُٹھے۔اندرونی اور بیرونی فتنوں نے سر اُٹھایا مگر آپ کے پائے استقلال کو ذرا جنبش نہ ہوئی اور سید الہی قافلہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بدستور بڑھتا گیا۔ہر فتنہ کے بعد جماعت میں قربانی اور فدائیت کی روح میں نمایاں ترقی ہوئی اور قدم آگے ہی آگے بڑھتا گیا۔جس وقت منکرین خلافت مرکز سلسلہ کو چھوڑ کر گئے اس وقت انجمن کے خزانے میں چند آنوں کے سوا کچھ نہ تھا۔لیکن جس وقت آپ کا وصال ہوا اس وقت صدر انجمن اور تحریک جدید کا بجٹ اے لاکھ نواسی ہزار تک پہنچ چکا تھا۔اختلاف کے وقت ایک کہنے والے نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے متعلق کہا کہ یہاں اُلو بولیں گے۔لیکن خدا کی شان کہ وہ مدرسہ نہ صرف کالج بنا بلکہ اس کے نام پر بیسیوں تعلیمی ادارے مختلف ممالک میں قائم ہوئے۔