دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 182 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 182

182 کے دست و بازو اور زبر دست مؤید تھے۔دوسرے آپ کے تقویٰ وطہارت، تعلق باللہ ، اجابت دعا اور مقبولیت کی وجہ سے انہیں نظر آ رہا تھا کہ جماعت میں آپ کی ہر دلعزیزی اور مقبولیت روز بروز ترقی کر رہی ہے اور خود حضرت خلیفہ امسیح الاوّل بھی آپ کا بے حد اکرام کرتے ہیں۔ان وجوہات کے باعث آپ کا وجود منکرین خلافت کو خار کی طرح کھٹکتا تھا۔خلافتِ اولیٰ کے دور میں آپ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں نیز بلادِ عرب ومصر کا سفر کیا۔حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔۱۹۱۱ء میں آپ نے مجلس انصار اللہ قائم فرمائی اور ۱۹۱۳ء میں اخبار الفضل جاری کیا اور اس کی ادارت کے فرائض اپنی خلافت کے دور تک نہایت عمدگی اور قابلیت سے سرانجام دیئے۔عہد خلافت حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد ۱۴/ مارچ ۱۹۱۴ء کو ( بیت ) نور میں خلافت کا انتخاب ہوا۔دو اڑھائی ہزار افراد نے جو اس وقت موجود تھے بیعتِ خلافت کی۔قریباً پچاس افراد ایسے تھے جنہوں نے بیعت نہیں کی اور اختلاف کا راستہ اختیار کیا۔اختلاف کرنے والوں میں مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب جو اپنے آپ کو سلسلہ کا عمود سمجھتے تھے پیش پیش تھے۔خلافت سے انکار اور حبل اللہ کی ناقدری کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لوگ ( قادیان) سے منقطع ہوئے۔صدر انجمن احمدیہ سے منقطع ہوئے۔نظام وصیت سے منقطع ہوئے۔حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام کی نبوت سے منکر ہوئے اور اپنے کئی عقائد و ا