دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 160
160 خوارج کا ظہور جب حضرت علی کو اس سیاسی فریب کا علم ہوا تو وہ پھر جنگ کی تیاری کرنے لگے۔اسی اثناء میں انہیں علم ہوا کہ ان کی جماعت کا ایک گروہ اس وجہ سے الگ ہو گیا ہے کہ کیوں ثالثی کی تجویز کو قبول کیا گیا انہوں نے اپنا ایک الگ مقرر کر لیا اور اس طرح مسلمان تین گروہوں میں بٹ گئے۔حضرت علیؓ نے ان کی سرکوبی کیلئے ایک لشکر تیار کیا۔پہلے تو انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب وہ ضد پر قائم رہے تو دونوں لشکروں میں خونریز جنگ ہوئی اور کئی ہزار خارجی مارے گئے صرف چند لوگ زندہ بچ رہے۔شہادت اگر چہ خارجیوں کو شکست ہوگئی لیکن ان شوریدہ سر لوگوں نے سوچا کہ کامیابی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ حضرت علی، حضرت معاویہ اور عمرو بن عاص متینوں کو بیک وقت قتل کر دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے اس بارے میں منصوبہ تیار کیا۔حضرت معاویہ پر حملہ کارگر نہ ہوا۔عمرو بن عاص عین وقت پر باہر چلے گئے اس لئے بچ گئے لیکن جو شخص حضرت علیؓ کو قتل کرنے کیلئے مقرر ہوا وہ قاتلانہ حملہ میں کامیاب ہوا اور اس طرح حضرت علی ۲۰ رمضان ۴۰ ھ کو پونے پانچ سال کی خلافت کے بعد تریسٹھ سال کی عمر میں شہید کر دیئے گئے۔