دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 109
109 پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ آخرین کون ہیں جن میں آپ کی دوبارہ بعثت ہوگی تو آپ نے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا :- لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ أَوْ رِجَالٌ مِّنْ هَوَلَاءِ ( بخاری کتاب التفسير سورة جمعه ) اگر ایک وقت ایمان ثریا تک بھی اُڑ گیا تو اہل فارس کی نسل میں سے ایک یا ایک سے زائد لوگ اسے واپس لے آئیں گے۔اس حدیث میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب ایمان دنیا سے اُٹھ کر ثریا تک چلا جائے گا اس وقت اہل فارس کی نسل میں سے ایک شخص یا ایک سے زائد اشخاص ایسے ہوں گے جو دنیا میں پھر ایمان کو قائم کر دیں گے اور ان کے ذریعہ ایک ایسی جماعت قائم ہوگی جو صحا بہ کا نمونہ ہوگی اور اس رجل فارس کا ظہور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک بعثت ثانیہ کا رنگ رکھے گا۔گویا آنے والا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ہی بروز ہوگا۔تاریخ سے ثابت ہے کہ حاجی بر لاس جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مورث اعلیٰ تھے امیر تیمور صاحبقران کے چچا تھے اور برلاس قبیلہ سمرقند کے علاقہ میں آباد تھا جو ایران (یا فارس) کا ایک علاقہ ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی وہ رجُل فارس ہیں جن کے ذریعہ ایمان دوبارہ دنیا میں قائم ہونا ازل سے مقدر تھا۔تفصیل کیلئے دیکھئے تاریخ احمدیت جلد اوّل مولفه مولوی دوست محمد صاحب شاہد )