دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ

by Other Authors

Page 101 of 313

دینی معلومات کا بنیادی نصاب برائے انصاراللہ — Page 101

101 لئے لوگ تمسخر سے باز نہ آئے تو حضور نے از راہ ہمدردی ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں تحریر کیا:۔" سواے عزیز و ! اس غرض سے پھر یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ سنجل جاؤ اور خدا سے ڈرو اور ایک پاک تبدیلی دکھلاؤ تا خدا تم پر رحم کرے اور وہ بلا جو بہت نزدیک آ گئی ہے خدا اس کو نابود کر دے۔اے غافلو! یہ نفسی اور ٹھٹھے کا وقت نہیں ہے یہ وہ بلا ہے جو آسمان سے آتی اور صرف آسمان کے خدا کے حکم سے دُور ہوتی ہے“۔جب لوگوں نے اس تنبیہہ سے فائدہ نہ اٹھایا تو خدائے ذوالجلال کا غضب بھڑ کا اور ۱۹۰۲ء میں طاعون نے اس قدر زور پکڑا کہ لوگ کتوں کی طرح مرنے لگے اور گاؤں کے گاؤں اُجڑ گئے۔اس قدرموتا موتی ہوئی کہ لاشوں کو سنبھالنے والا کوئی نہ ملتا۔یہ حالات دیکھ کر آپ نے پھر ایک رسالہ ”دافع البلاء و معيار اهل الاصطفاء تحریر فر مایا اور لوگوں کو توجہ دلائی کہ اس مصیبت کا حقیقی علاج یہی ہے کہ خدائے بزرگ و برتر کی طرف توجہ کی جائے اور اس کے فرستادہ کو قبول کیا جائے۔چنانچہ تحریر فرمایا :۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أوَى الْقَرْيَةَ - یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دُور نہ کر لیں جو ان کے دلوں میں ہیں یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور