دینی نصاب — Page ix
طرف آپ اپنے ابتدائے عہد خلافت سے جماعت کو توجہ دلاتے رہے وہ دعوت الی اللہ کی تحریک ہے۔آپ نے بار ہا یہ فرمایا کہ اب وہ وقت نہیں رہا کہ چند مبلغین یا معلمین کے ذریعے دعوت الی اللہ کا کام پورا ہو سکے بلکہ اب تو جماعت کے ہر فرد کو داعی الی اللہ بننا لازمی ہوگا۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔”اے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامو! اور اے دین محمد کے متوالو! اب اس خیال کو چھوڑ دو کہ تم کیا کرتے ہو اور تمہارے ذمہ کیا کام لگائے گئے ہیں۔تم میں سے ہر ایک داعی الی اللہ ہے اور ہر ایک خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہوگا۔تمہارا کوئی بھی پیشہ ہو کوئی بھی تمہارا کام ہودُنیا کے کسی خطہ میں تم بس رہے ہو کسی قوم سے تمہارا تعلق ہو تمہارا اولین فرض یہ ہے کہ دنیا کومحمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف بلاؤ اور ان کے اندھیروں کو نور میں بدل دو اور ان کی موت کو زندگی بخش دو۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔“ خطبه جمعه فرموده ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء) اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے امام کی اس تحریک میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ دعوت الی اللہ کے نتیجے میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں نفوس حقیقی اسلام احمدیت کی آغوش میں آرہے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کثرت سے آنے والوں کی اس رنگ میں تربیت کا انتظام کیا جا سکے جس کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ خود ان کے اندر استحکام اور استقامت پیدا ہو جائے بکہ یہ آگےداعی الی اللہ بن کر مزید ہزاروں لاکھوں سعید روحوں کی ہدایت کا موجب بنتے چلے جائیں جیسا کہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے فرمایا۔اتنی کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے پھلوں کی بارش ہورہی ہے کہ انہیں سنبھالنا ایک بہت بڑا کام ہے اور جو پھل سنبھالا نہ جائے وہ ضائع ہو جایا (ب)