دینی نصاب — Page 67
ہے۔بعض دفعہ کئی ہفتہ پہلے جاری ہو جاتا ہے۔اور ہر دن نیا سٹیج بھی سج رہا ہوتا ہے اور پھر اس بات پر بھی تبصرے ہوتے ہیں کہ آج اتنے کھانے پکے اور آج اتنے کھانے پکے۔یہ سب رسومات ہیں جنہوں نے وسعت نہ رکھنے والوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ایسے لوگ پھر قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔غیر احمدی تو یہ کرتے ہی تھے اب بعض احمدی گھرانوں میں بھی بہت بڑھ بڑھ کر ان لغو اور بیہودہ رسومات پر عمل ہو رہا ہے یا بعض خاندان اس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔بجائے اس کے کہ زمانہ کے امام کی بات مان کر رسومات سے بچتے۔معاشرہ کے پیچھے چل کر ان رسومات میں جکڑتے چلے جارہے ہیں۔چند ماہ پہلے میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مہندی کی رسم پر ضرورت سے زیادہ خرچ اور بڑی بڑی دعوتوں سے ہمیں رکنا چاہئے۔۔۔اس لئے اب میں کھل کر کہہ رہا ہوں کہ ان بیہودہ رسوم و رواج کے پیچھے نہ چلیں اور اسے بند کریں۔۔۔شادیوں پر آتش بازی کی جاتی ہے۔اب لوگ اپنے گھروں میں چراغاں بھی شادیوں پر کرتے ہیں اور ضرورت سے زیادہ کر لیتے ہیں۔۔۔اور دوسری طرف بعض گھر ضرورت سے زیادہ اسراف کر کے نہ صرف ملک کے لئے نقصان کا باعث بن رہے ہیں بلکہ گناہ بھی مول لے رہے ہیں۔۔۔یہ صدر عمومی کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں کہ شادیوں پر بے جا اسراف اور دکھاوا اور اپنی شان اور پیسے کا جو اظہار ہے وہ نہیں ہونا چاہئے۔جماعت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ نمی کے موقعوں پر جو رسوم ہیں ان سے تو بچے ہوئے ہیں۔ساتواں ، دسواں ، چالیسواں ، یہ غیر احمدیوں کی رسمیں ہیں ان پر عمل نہیں کرتے۔جو بعض دفعہ 67