دینی نصاب — Page 66
کے لئے ہماری کیا حدود ہیں اور غموں میں ہماری کیا حدود ہیں۔خوشی اور غمی انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور دونوں چیز میں ایسی ہیں جن میں کچھ حدود اور قیود ہیں۔آج کل دیکھیں، مسلمانوں میں خوشیوں کے موقعوں پر بھی زمانے کے زیراثر طرح طرح کی بدعات اور لغویات راہ پا گئی ہیں اور غموں کے موقعوں پر بھی طرح طرح کی بدعات اور رسومات نے لے لی ہے۔لیکن ایک احمدی کو ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو کام بھی وہ کر رہا ہے اس کا کسی نہ کسی رنگ میں فائدہ نظر آنا چاہئے۔اور ہر عمل اس لئے ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی یا یہ تم نے جو حدود قائم کی ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے ہر کام کرنا ہے۔میں نے خوشی اور غمی کا جو ذ کر کیا ہے تو خوشیوں میں ایک خوشی جو بہت بڑی خوشی سمجھی جاتی ہے وہ شادی کی خوشی ہے اور یہ فرض ہے۔۔۔پس یہ مسلمانوں کے لئے ایک فرض ہے کہ اگر کوئی روک نہ ہو ، کوئی امر مانع نہ ہو تو ضرور شادی کرے لیکن ان میں بعض رسمیں خاص طور پر پاکستانی اور ہندوستانی معاشرہ میں راہ پاگئی ہیں جن کا اسلام کی تعلیم سے کوئی بھی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔اب بعض رسوم کو ادا کرنے کے لئے اس حد تک خرچ کئے جاتے ہیں کہ جس معاشرہ میں ان رسوم کی ادائیگی بڑی دھوم دھام سے کی جاتی ہے وہاں یہ تصور قائم ہو گیا ہے کہ شاید یہ بھی شادی کے فرائض میں داخل ہے اور اس کے بغیر شادی ہو ہی نہیں سکتی۔مہندی کی ایک رسم ہے۔اس کو بھی شادی جتنی اہمیت دی جانے لگی ہے۔اس پر دعوتیں ہوتی ہیں۔کارڈ چھپوائے جاتے ہیں۔سٹیج سجائے جاتے ہیں اور صرف یہی نہیں بلکہ کئی دن دعوتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور شادی سے پہلے ہی جاری ہو جاتا 66