دینی نصاب — Page 48
وضع حمل ہے۔اور اگر حاملہ نہ ہو تو پھر تین حیض۔آئسہ ( بوڑھی عورت ) اور نابالغہ مطلقہ کیلئے تین ماہ عدت مقرر ہے۔اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل اور اگر حاملہ نہ ہو تو اس کے لئے چار ماہ دس دن عدت مقرر ہے۔خلع کی عدت ایک حیض مقرر ہے۔اور غیر مدخولہ مطلقہ کیلئے کوئی عدت نہیں۔عدت کے ایام میں عورت کو اپنے مکان سے ہلاضرورت خاص باہر جانا منع ہے۔اور اسے نکالنا بھی منع ہے۔اگر ضرورتاً کہیں جانا پڑے تو دن کے وقت جاسکتی ہے۔نیز عدت کے ایام میں عورت کو شرمہ یا خوشبو وغیرہ لگانا یازینت کرناسب منع ہے۔اور سوگ کرنے کا حکم ہے۔عدت کے ایام میں عدت والی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجنا منع ہے۔جب عدت گزر جائے پھر نکاح کا پیغام بھیجاجاسکتا ہے۔اگر مطلقہ عورت کا بچہ دودھ پی رہا ہو تو بچے کے باپ پر اس کا نان و نفقہ ایام رضاع ( دو سال کی عمر ) تک فرض ہے۔ضلع شریعت نے جس طرح مرد کو یہ اجازت دی ہے کہ اگر اسے کوئی حقیقی مجبوری در پیش ہو تو وہ اپنی عورت کو طلاق دے سکتا ہے۔اسی طرح شریعت نے عورت کو بھی یہ حق دیا ہے کہ اگر اُسے کوئی حقیقی مجبوری در پیش ہو۔مثلاً اس کا خاوند کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہو یا اُس کی ضرورت کو پورا نہ کر سکتا ہو تو وہ اپنے خاوند سے علیحدہ ہونے کیلئے طلاق حاصل کر لے۔اس طلاق کو جو عورت اپنی مرضی سے حاصل کرتی ہے خلع کہتے ہیں۔اگر مرد طلاق نہ دے تو عورت کو حکم ہے کہ وہ قضاء ( عدالت ) میں قاضی ( حاکم و منصف ) کے پاس درخواست کرے کہ اسے خاوند سے علیحدہ کیا جائے۔اگر قاضی معقول وجہ دیکھے گا۔تو 48