دینی نصاب — Page 40
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح تاکیدی احکام کی نافرمانی کرتا ہے۔نکاح کرنے سے علاوہ رشتہ داریاں بڑھنے کے انسان بہت سے گناہوں مثلاً بد نظری ، زنا اور بہت سی خطر ناک بیماریوں سے بھی بچ جاتا ہے۔اور امن سے اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔لیکن اگر کسی شخص کے پاس نکاح کرنے کیلئے مال وغیرہ نہ ہو یا اسے کوئی رشتہ دار نہ ملتا ہو تو اسے روزے رکھنے کا حکم ہے۔نکاح کرتے وقت یہ بات خصوصاً مد نظر رکھنے کا حکم ہے کہ عورت علاوہ اور خوبیوں کے دین دار، نیک اور پاک ضرور ہو۔اگر کوئی عورت نیک اور دیندار نہیں تو اس کے ساتھ نکاح نہیں کرنا چاہیئے۔کیونکہ پھر وہ فوائد حاصل نہ ہو سکیں گے جن کیلئے شریعت نے نکاح کرنے کا حکم دیا ہے۔نکاح کے انعقاد کیلئے چند شرطیں ہیں:۔اول :- مرد اور عورت سے دریافت کیا جائے کہ کیا وہ آپس میں نکاح کرنے پر رضامند ہیں۔اگر ہر دور رضامند ہوں تو پھر نکاح کیا جائے۔اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ناپسند کرے تو نکاح نہیں ہو سکتا۔دوم : - عورت کی طرف سے اس کے ولی یعنی قریبی رشتہ دار مثلاً باپ یا بھائی کی منظوری بھی ضروری ہے کیونکہ شریعت نے عورت کیلئے ایک ولی کا ہونا ضروری قرار دیا ہے اس لئے عورت کو بطور خود کسی سے نکاح کرنے کا حکم نہیں جب تک کہ اس کا ولی نکاح کی منظوری نہ دے۔کی۔سوم :- مہر لمقر ر ہو۔بغیر مہر کے نکاح نہیں ہوسکتا۔شریعت نے مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ے مہر اس مال کو کہتے ہیں جو عورت کو بطور جائیداد نکاح کے وقت خاوند کی طرف سے دیا جاتا ہے یا دیئے جانے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔40