دینی نصاب

by Other Authors

Page 21 of 377

دینی نصاب — Page 21

مثلاً اگر امام عصر کی نماز پڑھ رہا تھا اور نمازی اُسے ظہر سمجھ کر اس میں شریک ہوا تو وہ اس کی بھی عصر کی نماز ہوگی اور ظہر کی قضاء وہ بعد میں ادا کرے گا۔لیکن اگر نمازی کو علم ہو جائے کہ امام عصر پڑھ رہا ہے تو اُسے ظہر بہر حال پہلے پڑھنی چاہیئے۔اور پھر بعد میں عصر میں شریک ہو۔۲۲۔اگر کوئی مقتدی سنتیں پڑھ رہا ہو اور اس اثناء میں نماز کھڑی ہو جائے تو اس کو چاہئیے کہ فورا اسلام پھیر کر نماز با جماعت میں شامل ہو جائے۔اور سنتیں بعد میں پڑھ لے۔۲۳ - اگر امام چار رکعت پڑھا رہا ہو اور وہ درمیانی تشہد بھول کر تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہونے لگے تو اگر اس کے گھٹنے سیدھے نہیں ہوئے تو وہ تشہد میں بیٹھ جائے سجدہ سہو کی ضرورت نہیں۔لیکن اگر وہ تیسری رکعت کیلئے پورا کھڑا ہو گیا ہے تو تشہد کیلئے نہ بیٹھے بلکہ تیسری رکعت پڑھے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔جوشخص دورکعت پڑھ رہا تھا۔بھول کر تیسری کیلئے کھڑا ہوگیا اور بعد میں اُسے یاد آ گیا کہ وہ نماز پوری کر چکا ہے تو وہ اسی وقت بیٹھ جائے اور تشہد پڑے اور اپنی نماز پوری کرے۔لیکن اگر اس نے تیسری رکعت کا رکوع کر لیا اور پھر یاد آیا تو وہ فوراً تشہد کیلئے بیٹھ جائے اور آخر میں سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے۔۲۴۔رکوع یا سجدہ کی حالت میں قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھنا منع ہے۔۲۵۔مومن کا امام متقی مومن ہی ہو سکتا ہے۔حدیث اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اسی طرف اشارہ کر رہی ہے اور یہ کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وہ لوگ ہم کو کافر کہتے ہیں۔اگر ہم کا فرنہیں ہیں تو وہ کفرلوٹ کر ان پر پڑتا ہے۔مسلمان کو کافر کہنے والا خود کا فر ہے۔اس واسطے ایسے لوگوں کے پیچھے نماز جائز نہیں“۔( بدر جلد نمبر ۳۹ صفحه ۲ مورخه ۱۵/ دسمبر ۱۹۰۵ء، ملفوظات جلد ۸ صفحه ۲۸۲) ۲۶۔نماز کا امام وہ ہونا چاہیئے جسے قرآن کریم زیادہ حفظ ہو۔اگر اس میں کئی لوگ برابر ہوں تو وہ ہو جو زیادہ عالم اور فقیہہ ہو۔اگر اس میں بھی کئی برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو وہ امام 21