دینی نصاب — Page 20
شامل نہ ہوسکا ہو تو ایسی صورت میں جو رکعت یا رکعتیں وہ پڑھے گا اس میں سورۃ فاتحہ کے علاوہ بھی قرآن کریم کا ایک حصہ پڑھنا ضروری ہے جو کم و بیش تین آیات کے برابر ہو۔اس کیلئے یہ رکعتیں ابتدائی ہوں گی۔۱۷۔اگر کوئی شخص وضو ٹوٹ جانے کی وجہ سے باجماعت نماز سے الگ ہو اور وضو کر نے کے بعد دوبارہ جماعت میں شامل ہو جائے تو جتنی رکعتیں رہ گئی ہیں وہ پوری کرے۔اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہے اور نماز پڑھتے پڑھتے وضوٹوٹ جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وضو کر کے وہیں سے نماز شروع کرے جہاں سے چھوڑی تھی بشر طیکہ کسی سے بات نہ کی ہو۔بات کرنے کی صورت میں شروع سے نماز پڑھنی ہوگی۔۱۸ - جو شخص رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہو اس کی یہ رکعت ہوگئی۔رکوع کے بعد شامل ہونے والے کی وہ رکعت نہیں ہوتی۔جب نماز کھڑی ہو جائے تو اس خیال سے جماعت میں شامل ہونے سے رکے رہنا کہ رکوع میں شامل ہو جائیں گے درست نہیں جب نماز ہو رہی ہو تو فوراً اس میں شامل ہونا ضروری ہے۔۱۹۔نماز میں شامل ہونے کیلئے بھاگ کر جانا درست نہیں۔۲۰ - اگر کسی شخص نے پہلے وقت کی نماز نہ پڑھی ہو اور دوسرے وقت کی نماز کھڑی ہوگئی ہو تو ایسی صورت میں اسے پہلے وقت کی نماز پہلے پڑھنی چاہئیے۔اگر دوسرے وقت کی نماز کا وقت اس قدر تنگ ہو گیا ہو کہ اگر پہلی پڑھے تو دوسری کا وقت گذر جائے گا تو ایسی صورت میں بعد والی نماز پہلے ادا کرے اور جو پہلی اس کی ذمہ تھی اس کو پیچھے ڈال دے۔۲۱- اگر کسی وقت امام دو نمازوں کو جمع کرے اور نمازی کو علم نہ ہو کہ کونسی ہے اور وہ جماعت میں شامل ہو جائے تو اس کی وہ نماز ہوگی جو امام کی تھی۔اور دوسری نماز بعد میں پڑھے۔20