دینی نصاب — Page 212
(۲) یہ عذاب چھ سال کے عرصہ میں آئے گا۔(۳) یہ عذاب عید کے ساتھ ملے ہوئے دن میں آئے گا۔(۴) لیکھرام سے گوسالہ سامری کا سا سلوک کیا جائے گا اور اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائیگا۔(۵) وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا کشتہ ہو گا۔ان پیشگوئیوں کے پانچ سال بعد کسی نامعلوم شخص نے لیکھرام کے گھر میں تیز خنجر سے اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور وہ عید کے ساتھ ملا ہوا دن تھا۔گوسالہ سامری کو ہفتہ کے دن ٹکڑے ٹکڑے کر کے پہلے جلایا گیا اور پھر راکھ دریا میں پھینک دی گئی۔اسی طرح لیکھرام ہفتہ کے دن ہلاک ہوا۔پہلے جلایا گیا اور پھر راکھ دریا میں ڈال دی گئی۔اس کی ہلاکت اسلام کی صداقت، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کا ایک زبر دست ثبوت ہے اور اہل ہند بالخصوص ہنود کے لئے وہ حجت ٹھہری۔م۔ڈاکٹر ڈوئی کے متعلق پیشگوئی ڈاکٹر الیگزنڈر ڈوئی امریکہ کا ایک مشہور عیسائی مناد تھا جس نے صحون نامی ایک شہر بسایا اور اعلان کیا کہ حضرت مسیح اسی شہر میں اُتریں گے۔اس شخص کو بہت شہرت حاصل ہوئی اور اس کا شہر بہت بارونق ہو گیا۔اسے اسلام سے سخت عداوت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُسے مباہلہ کی دعوت دی تاکہ عیسائیت اور اسلام کی صداقت کا فیصلہ ہو سکے اس سلسلہ میں اس نے اپنے اخبار میں لکھا:۔”ہندوستان میں ایک بیوقوف محمدی مسیح ہے جو مجھے بار بار لکھتا ہے کہ مسیح یسوع کی قبر کشمیر میں ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو اس کا جواب کیوں نہیں دیتا اور کہ تو کیوں اس شخص کا جواب نہیں دیتا۔مگر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں ان مچھروں اور مکھیوں کا جواب دوں گا۔اگر میں ان پر اپنا پاؤں رکھوں تو میں ان کو چل کر مار ڈالوں گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد سوئم صفحہ ۵۶۶ - اشتہار ۲۳ / اگست ۱۹۰۳ء) 212