دینی نصاب

by Other Authors

Page 188 of 377

دینی نصاب — Page 188

اس میں لکھا کہ جو شخص اسلام کی صداقت میں کوئی شبہ رکھتا ہو یا جسے میرے دعویٰ الہام ومجددیت کے متعلق شک ہو یا جو مطلقا خوارق وغیرہ کا منکر ہو تو میں خدا سے وعدہ پا کر اُسے دعوت دیتا ہوں کہ اگر وہ طالب حق بن کر ایک سال تک میرے پاس قادیان میں آکر قیام کریگا تو ضرور کوئی نہ کوئی خدائی نشان دیکھ لیگا اور اگر اس عرصہ میں کوئی خارق عادت نشان ظاہر نہ ہو تو میں بطریق حرجانہ یا جرمانہ دو سو روپیہ ماہوار کے حساب سے مبلغ چوبیں سو روپیہ نقد ایسے صاحب کے حوالے کر دونگا۔وہ جس طرح چاہیں اپنی تسلی کرا لیں۔( تبلیغ رسالت) اب دیکھو یہ طریق فیصلہ کیسا راستی پر مبنی تھا۔پادری صاحبان اپنے میں سے کسی کو منتخب کر کے ایک سال کیلئے قادیان بھجوا دیتے اور نہیں تو انہیں اپنے مشن کی امداد کیلئے ڈھائی ہزار روپیہ ہی مل جاتا اور اسلام کی شکست اور اُنکی فتح الگ ہوتی اور کم از کم حضرت مرزا صاحب اور ان کے معتقدین کے منہ تو ضرور بند ہو جاتے۔مگر خوب یا درکھو کہ باطل حق کے سامنے آنے سے ہمیشہ گھبراتا ہے سوائے اسکے کہ اس کی اجل اسے کھینچ کر ادھر لے آئے اور یہاں مخبر صادق نے پہلے یہ خبر دے رکھی تھی کہ دجال مسیح موعود کے سامنے آنے سے نمک در آب کی طرح پچھلے گا اور اُس سے بھاگے گا۔پس وہ کس طرح سامنے آتا؟ حضرت مرزا صاحب نے صرف عام تحریک پر ہی بس نہیں کی بلکہ پرائیویٹ طریق پر بھی بعض پادریوں کو غیرت دلائی اور پر زور تحریکیں کیں مگر کوئی پادری سامنے نہ آیا۔بٹالہ میں جو قادیان سے صرف گیارہ بارہ میل پر ہے اُس زمانہ میں پادری وائٹ بریخٹ صاحب موجود تھے اُن کو بھی بہت جگا یا مگر انہوں نے بھی کروٹ نہ بدلی۔اب دیکھو کہ یہ کیسی بین حجبت ملزمہ ہے جو اس قوم پر پوری کی گئی۔آخر ۱۸۹۳ء میں یہ ہوا کہ امرتسر کے پادریوں نے اس شرط کے مطابق تو فیصلہ منظور نہ کیا لیکن علمی طور پر مناظرہ کرنا منظور کر لیا۔چنانچہ مسیحیوں کی طرف سے مسٹر عبداللہ آتھم ای۔اے سی مناظر اور پادری ٹامس باول اور پادری ٹھا کر داس وغیرہ ان کے معاون مقرر ہوئے اور اسلام کی 188