دینی نصاب — Page 180
ہے۔آپ نے اسے ایسا صاف کیا کہ اب ایک بچہ بھی اسے سمجھ سکتا۔پھر خلافت راشدہ کے متعلق سنیوں شیعوں کے اختلافات شائع و متعارف ہیں ان میں آپ نے سچا فیصلہ فرمایا۔پھر قرآن وحدیث کے مرتبہ کے متعلق یعنی ان دونوں میں سے کون دوسرے پر قاضی ہے ایسے خیالات کا اظہار ہوا ہے کہ انہیں سُن کر ایک مسلمان کا بدن کانپ اٹھتا ہے۔مسلمانوں کے ایک فرقے نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا تھا اور حدیث کے آگے ایک بت کی طرح گر گئے تھے۔آپ نے ان مسائل پر بڑی بڑی لطیف بخشیں کیں۔اور ایک طرف تو سنت کو حدیث سے الگ ثابت کیا اور دوسری طرف قرآن وسنت و حدیث کا الگ الگ مرتبہ دلائل اور براہین کے ساتھ متعین کیا۔پھر اہل فقہ اور اہل حدیث کے اختلافات اور باہمی کشمکش مشہور ہیں۔آپ نے دلائل دے کر طرفین کو ان کی غلطی پر متنبہ کیا اور پھر دونوں کی جو جو خو بیاں تھیں وہ بھی ظاہر فرمائیں اور افراط اور تفریط کے درمیان میانہ روی کا راستہ قائم کیا۔پھر معجزات کی حقیقت اور معجزات اور کرامات کے فلسفہ کے متعلق نیچریوں اور اہل حدیث اور حنفیوں میں اختلافات کی کوئی حد نہ تھی۔آپ نے اس مسئلہ پر وہ سیر کن بخشیں کیں کہ کسی اختلاف کی گنجائش نہ چھوڑی۔پھر مسئلہ جہاد ایک نہایت خطرناک صورت اختیار کر گیا تھا جس سے اسلام پر ایک بدنما دھبہ لگتا تھا کہ گویا اسلام مذہب میں جبر کی تعلیم دیتا ہے۔آپ نے روشن دلائل کے ساتھ اسے صاف کیا اور لا اکراہ فی الدین کے اصول کے ماتحت سچی سچی راہ ظاہر فرمائی۔پھر انبیاء کا مزعومہ علم غیب اور اس کا فلسفہ باوجود مباحث کا جولانگاہ ہونے کے سخت تاریکی میں پڑا ہوا مسئلہ تھا۔آپ نے تحریر وتقریر سے اس پر گویا ایک سورج چڑھا دیا۔پھر مسائل فقہی میں تو اختلاف کی کوئی حد ہی نہ تھی آپ نے بعض فروعی اختلافات کو قائم 180