دینی نصاب — Page 179
ایک سچا سا رستہ قائم کر دیا۔پھر سلسلہ رسالت کے متعلق اختلاف تھا کہ ہر قسم کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی ہے اور اب کوئی شخص خواہ وہ آپ سے ہی فیض پانے والا اور آپ کی ہی شریعت کا خادم ہو نبی نہیں ہو سکتا۔آپ نے بدلائل ثابت کیا کہ خاتم النبیین کے وہ معنے نہیں ہیں جو سمجھے گئے ہیں اور سلسلہ رسالت کے بند ہونے سے یہ مراد نہیں کہ اب کسی قسم کا بھی نبی نہیں آ سکتا۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف شریعت والی نبوت کا دروازہ بند ہوا ہے مگر غیر تشریعی اور ظلی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔اگر نبوت کے تمام شعبے بند اور منقطع سمجھے جاویں تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود امت محمدیہ سے ایک عظیم الشان رحمت اور انعام الہی کے چھینے جانے کا باعث ہوا ہے۔غرض آپ نے نقل و عقل سے اس مسئلہ کا بطلان ثابت کیا۔پھر انبیاء اور رسل کے متعلق یہ خطرناک اختلاف تھا کہ گویا نعوذ باللہ سب نبی گنہ گار ہیں اور سوائے مسیح ناصری کے کوئی نبی معصوم اور مسّ شیطان سے پاک نہیں۔آپ نے براہین قویہ سے اس خیال کو غلط ثابت کیا اور بڑے زور دار مضامین سے اس معاملہ میں حقیقت امر کو واضح کیا۔پھر نبوت کے مفہوم کے متعلق یعنی اس امر کے متعلق کہ نبی کیا ہوتا ہے اور مقام نبوت سے کیا مراد ہے نہایت باطل خیالات رائج ہو گئے تھے۔آپ نے ان کو بدلائل صاف کیا۔پھر بعث بعد الموت اور جزاء وسزا اور جنت و دوزخ کی حقیقت کے متعلق عجیب عجیب خیالات پیدا ہو گئے تھے جن کی وجہ سے غیروں کو اسلام پر حملہ کرنے کا بہت موقعہ مل گیا تھا۔جنت و دوزخ کی حقیقت کے متعلق تو ایسے ایسے خیالات کا اظہار کیا گیا تھا کہ بس خدا کی پناہ۔آپ نے اس کے متعلق نہایت لطیف اور مدلل مضامین لکھے اور قرآن وحدیث سے اصل حقیقت واضح فرمائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن بھی جو پہلے معترض تھا ان مضامین پر عش عش کر اُٹھا۔پھر مسئلہ تقدیر ہمیشہ سے بحث کا جولانگاہ رہا ہے اور اس میں اختلافات کی کوئی حد نہیں رہی 179