دینی نصاب — Page 166
آدمی میرے سامنے آیا۔اس کا رنگ گندم گوں تھا اور بال سیدھے اور لمبے تھے اور اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے تھے۔میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ یہ ابن مریم ہے پھر اس کے بعد میں نے ایک جسیم آدمی دیکھا جو سرخ رنگ کا تھا اور اس کے بال گھنگر الے تھے اور وہ ایک آنکھ سے کانا تھا۔گویا کہ اس کی ایک آنکھ انگور کے دانے کی طرح پھولی ہوئی تھی۔مجھے بتایا گیا کہ یہ دجال ہے۔اور ایک حدیث میں یوں آیا ہے کہ مسیح موعود دمشق سے مشرق کی طرف سفید منارے کے پاس نازل ہو گا اس حال میں کہ وہ دوز رد چادروں میں لپٹا ہوا ہوگا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے ہونگے۔جب وہ اپنا سر جھکائے گا تو اس سے پانی کے قطرے گریں گے اور جب سر کو اٹھائے گا تو اس سے موتی جھڑیں گے اور ہر کا فرجس تک اس کا سانس پہنچے گا مر جائے گا۔“ سیہ وہ حلیہ ہے جو احادیث میں مسیح موعود کا بیان ہوا ہے۔اب دیکھ لو کہ کس صفائی کے ساتھ یہ حلیہ حضرت مرزا صاحب میں پایا جاتا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ آپ کا رنگ گندم گوں تھا۔آپ کے بال پشم کی طرح نرم اور سیدھے اور لمبے تھے اور سید ھے بھی ایسے کہ ایک ایک بال ریشم کی تار کی طرح الگ الگ نظر آتا تھا۔پھر آپ دو زرد چادروں میں لیٹے ہوئے مبعوث ہوئے تھے۔یعنی دو بیماریاں آپ کو لاحق تھیں اور دعوئی مسیحیت سے لیکر یومِ وصال تک لاحق رہیں۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔اوپر کے حصہ میں دورانِ سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرت پیشاب ہے اور یہ دونوں مرضیں اس زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔میں نے ان کیلئے دُعائیں بھی کیں۔مگر منع میں جواب پایا۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۰۷) 166