دینی نصاب

by Other Authors

Page 157 of 377

دینی نصاب — Page 157

حکومتیں ان کو اپنا شکار سمجھتی ہیں۔دوسری طرف اسلام کا وجود خود بیرونی حملوں کا اس قدر شکار ہو رہا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ بس یہ آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں۔نبیوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گندے سے گندے اعتراض کئے جاتے ہیں۔آپ کی ازواج مطہرات کو مختلف قسم کے الزامات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسلامی تعلیم کو ایک نہایت بد نما شکل میں پیش کر کے اس پر ہنسی اڑائی جاتی ہے۔صلیبی مذہب پورے زور پر ہے اور دہریت اپنے کو ایک خوبصورت شکل میں پیش کر رہی ہے۔غرض اسلام کی کشتی ایک ایسے طوفانِ بے تمیزی کے اندر گھری ہوئی ہے کہ جب تک خدا کا ہاتھ اس کے بچانے کیلئے نہ بڑھے اس کا کنارے پر پہنچنا ناممکنات میں سے ہے۔علماء جن کا فرض تھا کہ ایسے وقت میں اسلام کی مدد کیلئے کھڑے ہوتے خواب غفلت میں پڑے سوتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ خود ہزاروں بیماریوں میں مبتلا ہیں اور ان کے ایمانوں کی حالت ایسی ابتر ہو چکی ہے کہ الامان ! چند پیسوں پر ایمان فروشی کو تیار ہو جاتے ہیں۔یہ تمام حالات پکار پکار کر بتا رہے ہیں کہ یہی وہ زمانہ ہے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ڈرایا تھا اور یہی وہ وقت ہے جس میں اسلام کے عظیم الشان مجبد دمسیح اور مہدی کی آمد مقدر ہے کیونکہ اگر ایسی اشد ضرورت کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مصلح ظاہر نہ ہو تو پھر نعوذ باللہ خدا کا وہ وعدہ غلط ٹھہرتا ہے کہ میں قرآن اور اسلام کی حفاظت کرونگا اور دین کی خدمت کیلئے خلفاء اور مجبد دین کھڑے کرتارہوں گا۔چھٹی علامت چھٹی علامت مسیح و مہدی کی یہ بیان کی گئی تھی کہ اس کے زمانہ میں معینہ تواریخ میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔چنانچہ امام محمد باقر سے روایت آتی ہے کہ :- إِنَّ لِمَهْدِينَا ايَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي 157