دینی نصاب — Page 156
نقشہ کے مطابق ہے یا نہیں؟ ہم دعویٰ کے ساتھ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی ایسا زمانہ نہیں آیا کہ جب مسلمانوں کی حالت دینی لحاظ سے ایسی پست اور خراب ہوئی ہو جو اس زمانہ میں ہے اور یہ ایسی بات ہے جس پر کسی دلیل کے لانے کی ضرورت نہیں۔اعمال میں شست ہونے کے علاوہ اعتقادات میں بھی وہ اندھیر ہے کہ مسلمانوں کے بہتر (72) فرقے ہورہے ہیں جو ایک دوسرے سے عقائد میں سخت مخالف ہیں اور تو اور خود ذات باری تعالیٰ کی صفات کے متعلق بھی بھاری اختلاف ہو رہا ہے۔پھر ایمان کا یہ حال ہے کہ نناوے فیصدی مسلمان ایسے ہوں گے کہ جن کے دلوں سے ایمان کلی طور پر پرواز کر چکا ہے۔وہ منہ سے تو اقرار کرتے ہیں کہ خدا ہے مگر دراصل دل میں خدا کے منکر ہیں اور در پردہ دہریت کا شکار ہو چکے ہیں۔صرف اعتقادی اور زبانی طور پر کہتے ہیں کہ خدا ہے لیکن ذرا گرید کر پوچھو تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کی ذات کے متعلق سینکڑوں شبہات میں مبتلا ہیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بابرکات کے متعلق بھی اُن کا ایمان کسی مستحکم برا مینی چٹان پر قائم نہیں بلکہ محض جذباتی رنگ کا ہے اور بعث بعد الموت ، جزاء سزا اور فرشتوں کا وجود تو بالکل ہی وہمی قرار دیا گیا ہے۔پھر عبادت کی وہ راہیں جن پر قدم مارنے سے پہلوں نے خدا کے در بار تک رسائی حاصل کی تھی حقارت اور استخفاف کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔شرک جس کے خلاف سارا قرآن شریف بھرا پڑا ہے مسلمانوں کی حرکات وسکنات سے کھلے طور پر ظاہر ہورہا ہے۔روپے سے محبت کی جاتی ہے اور اس پر وہ بھروسہ کیا جاتا ہے جو خود ذات باری تعالیٰ کے شایانِ شان ہے۔قبروں پر جا کر سجدے کئے جاتے ہیں۔شراب خوری، زنا کاری ، قمار بازی اور حرام خوری کا میدان گرم ہے۔سود جس کے متعلق کہا گیا کہ اسے لینے دینے والا خدا تعالیٰ سے جنگ کرنے کو تیار ہو جائے شیر مادر کی طرح سمجھا گیا ہے مسلمانوں کی تمام سلطنتیں کمزور ہو کر کھوکھلی ہوچکی ہیں اور مسیحی 156