دینی نصاب — Page 131
صاف طور پر یہ بتائے کہ دین کے معاملہ میں جبر درست نہیں اور تلوار کے ذریعہ لوگوں کو اسلام کے اندر داخل کرنا نا جائز ہے تو اس کے ساتھ ہی خونی مہدی کے مسئلہ کا بھی خود بخود صفایا ہو جائے گا۔کیونکہ جب جبر جائز ہی نہیں تو ایسا مصلح کس طرح آ سکتا ہے جو لوگوں کو جبراً اسلام کے اندر داخل کرے۔اب جب ہم قرآن شریف پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں صاف لکھا ہوا پاتے ہیں کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَي ( سورة بقره رکوع ۳۴) یعنی دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ ہدایت ضلالت سے ممتاز ہو چکی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر کرنا جائز نہیں اور چونکہ قرآن شریف ہر ایک دعوئی کے ساتھ دلیل بھی لاتا ہے اسلئے اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ جبر اس لئے جائز نہیں کہ ہدایت اور ضلالت کھلی کھلی چیزیں ہیں اور ہر ایک شخص جو ٹھنڈے دل سے غور کرے وہ ہدایت کو دیکھ سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ جبر کی ضرورت اسی جگہ پیش آتی ہے کہ جہاں کوئی تعلیم ناقص ہو اور اپنی خوبی کے زور سے لوگوں کے دلوں کے اندر گھر نہ کر سکے لیکن قرآن شریف کی تعلیم تو سبحان اللہ ایسی صاف اور روشن ہے کہ ذرا سے تدبر سے انسان حق کو پاسکتا ہے۔اسلئے اس کے منوانے کیلئے جبر کا طریق کسی طرح بھی درست نہیں سمجھا جا سکتا۔علاوہ ازیں غور کرو کہ تلوار کے زور سے لوگوں کو اسلام کے اندر داخل کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ہم صاف لفظوں میں اقرار کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ اسلام جھوٹا ہے یا کم از کم یہ کہ اسلام اس خوبی کا مذہب نہیں کہ خود بخو دلوگوں کو اپنی سچائی کا قائل کر سکے تبھی تو جبر کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ جبر کی حکومت صرف انسان کے جسم تک محدود ہوتی ہے اس کے ذریعہ انسان کی روح اور خیالات پر قابو نہیں پایا جاسکتا مگر مذہب دل کے تخیلات سے تعلق رکھتا ہے اور گو اعمال بھی اس کے اندر شامل ہیں مگر اعمال کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ دل کی تحریک سے پیدا ہوں۔ورنہ اگر وہ کسی بیرونی اثر کے ماتحت ظہور میں آئیں اور دل ان کے ساتھ متفق نہ ہو تو 131