دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 70

مسیح اِس خیال سے کہ پیغمبر کی عزت اپنے وطن میں نہیں ہوتی اُسے چھوڑ کر جلیل چلے گئے جہاں کے لوگوں نے اُ ن کی بہت قدر کی۔لیکن اس کے خلاف متی باب ۱۳ آیت ۵۴ تا ۵۸ ،لوقا باب ۴ آیت ۲۴ اور مرقس باب۶ آیت ۴ میں لکھاہے کہ مسیح کا وطن یہودیہ نہیں تھا بلکہ جلیل تھا۔جب جلیل میں اِن کی قدر نہ ہوئی تو اُنہوں نے کہا کہ کسی نبی کی قدر اُس کے وطن میں نہیں ہوتی۔۶۔یوحنا باب ۳ آیت ۲۲ تا ۲۶ اور یوحنا باب ۴ آیت ا تا۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے یوحنا کی قید سے پہلے ہی اپنی تعلیم بیان کرنی شروع کردی تھی اوربپتسمہ دینا بھی شروع کر دیا تھا۔لیکن متی باب ۴ آیت ۱۲ تا ۱۷،مرقس باب ۱ آیت ۱۴۔۱۵، متی باب ۲۸ آیت ۱۹ اور مرقس باب ۱۶ آیت ۱۵۔۱۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے اپنی تعلیم کی تبلیغ تو یوحنا کے قید ہونے کے بعد شروع کی اور بپتسمہ کاحکم اپنے مرنے سے جی اُٹھنے کے بعد دیا۔جیسا کہ لکھا ہے:۔’’پھر وَے گیارہ شاگرد جلیل کے اُس پہاڑ کو جہاں یسوع نے اُنہیں فرمایا تھا گئے اور اُسے دیکھ کر اُنہوں نے اُس کو سجدہ کیا۔پھر بعضے دبدہ ۸۴؎ میںرہے اور یسوع نے پاس آکر اُن سے کہا کہ آسمان اور زمین کا سارا اختیار مجھے دیا گیا اس لئے تم جا کر سب قوموں کو شاگرد کرو اور انہیں باپ اور بیٹے اور روح قدس کے نام سے بپتسمہ دو‘‘۔۷۔یوحنا باب ۱۳ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح نے آخری کھانا عید سے ایک روز پہلے کھایا اور عید کے روز وفات پائی۔لیکن متی باب ۲۶ آیت ۱۷۔مرقس باب ۱۴ آیت ۱۲ تا ۱۶۔لوقا باب ۲۲ آیت ۷ تا ۱۳۔متی باب ۲۷ آیت ۵ ۱ تا ۳۱۔مرقس باب ۱۲؍۱۴ اور باب ۱۵ آیت ۶ تا ۲۰ لوقا باب ۲۳ آیت ۱۳ تا ۲۵ اور باب ۲۲ آیت ۱۳ تا۲۷سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے آخری کھانا عید کی شام کوکھایا تھا اور عید سے دوسرے دن صلیب پائی۔۸۔یوحنا باب ۱۴آیت ۱۵ تا ۳۱ اور باب ۱۶ آیت ۱ تا ۱۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کے بعد فارقلیط یا روح القدس آئیں گے۔اِس کے دوبارہ زندہ ہو کر واپس آنے کا کہیں صاف طور پر ذکر نہیں۔لیکن متی باب ۱۷ آیت ۲۳ اور مرقس باب ۹ آیت ۳۱ سے معلوم ہوتاہے