دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 68

نشان ظاہر ہوا۔یعنی جیسے یونس نبی تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میںرہا ویسے ہی ابن آد م تین دن اور تین رات قبر میں رہے گا تو وہ تین دن اور تین رات زمین کے اندر کس طرح رہے؟ وہ واقعات جو اناجیل میں بیان کئے گئے ہیں وہ تو اس کی تصدیق نہیں کرتے۔جب عیسائیوں نے دیکھا کہ ا ُن کیلئے اِس اعتراض سے بچائو کی کوئی صورت نہیں تو انہوں نے اِس آیت میں تحریف سے کام لیا اور موجود اناجیل میں بجائے تین دن اور تین رات کے ’’ تین رات دن‘‘ کر دیا۔اِس طرح انہوں نے گو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اعتراض سے بچانے کی کوشش کی ہے لیکن درحقیقت انہوں نے اپنے عمل سے ایک دفعہ پھر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اناجیل میں تحریف و تبدیل ہوتی چلی آئی ہے اور اب بھی عیسائی ضرورت محسوس ہونے پر اِس میں تحریف و تبدیل کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔جب حالات یہ ہیں تو ایسی کتاب کے متعلق یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان کی رہنمائی کا فرض سر انجام دے سکتی ہے۔یا کوئی شخص کس طرح اس کی آیات کے متعلق یہ یقینسے کہہ سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔جب عیسائی آج بھی اِس کی آیات میں تبدیلی کرنے سے احتراز نہیں کرتے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ پہلے جو کچھ انہوں نے لکھا تھا وہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا۔پس اناجیل میں تحریف و تبدیل کا متواتر ہوتے چلے آنا ثبوت ہے اِس بات کا کہ موجودہ اناجیل خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور وہ روحانی نقطئہ نگاہ سے بنی نوع انسان کے لئے کسی صحیح راہنمائی کا باعث نہیںہو سکتیں۔اناجیل میں اختلافات اناجیل کے اندر جو اختلافات پائے جاتے ہیں وہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ یہ خد اتعالیٰ کی کتاب نہیں۔یا یہ کہ بعد میں انسانی دست بُرد نے اس کو بالکل بدل ڈالا کیونکہ ایک معقول انسان اپنی لکھی ہوئی کتاب میں اختلافات کو روا نہیں رکھتا تو پھر خدا کی کتاب میں اختلافات کیونکر پائے جا سکتے ہیں۔ہم ذیل میں مثال کے طور پر نئے عہد نامہ کے چند اختلافات بیان کرتے ہیں۔