دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 46

ہے خدائے رحیم و کریم کی تعلیم نہیں ہوسکتی۔یقینا یہ تعلیم موسٰی ؑکے بعد آنے والے سفاک یہودیوں کے دماغوں کا اختراع ہے اور موسٰی ؑکی کتاب میں داخل کر کے اُس کو بھی گندہ کر دیا ہے۔بائبل کی خلاف عقل باتیں بائبل میں بعض ایسی باتیں ہیں جو بالکل خلافِ عقل ہیں۔مثلاً : ۱۔احبار باب ۱۱ آیت۳ میں لکھا ہے ’’خرگوش جگالی کرتا ہے۔‘‘ ۲۔اِسی طرح گنتی باب ۲۲ آیت ۲۸ میں بلعام کی گدھی کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے بلعام سے باتیں کیں۔۳۔پیدائش باب ۴۶ آیت ۲۷ ،۲۸ میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں آئے تھے تو ۷۰ تھے، لیکن ۲۱۵ سال کے بعد یعنی موسٰی ؑکے زمانہ میں ان کی تعداد اِس قدر بڑھ گئی کہ عورتوں اور بچوں کو نکال کر چھ لاکھ کے قریب پہنچ گئے۔چنانچہ خروج باب ۱۲ آیت ۳۷ میں لکھا ہے:۔’’ اور بنی اسرائیل نے رعمیس سے ’’سکات‘‘ تک پیادے سفر کیا۔ان کے مرد سِوا لڑکوں کے چھ لاکھ کے قریب تھے‘‘۔اگر مردوں کی تعداد کوملحوظ رکھ کر عورتوں اور بچوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو کل تعداد ۲۵ لاکھ کے قریب پہنچ جاتی ہے مگر یہ سخت مبالغہ اور عقل کے خلاف بات ہے۔۲۱۵ سال میں ۷۰ آدمیوںکا ۲۵ لاکھ ہوجانا بالکل عقل کے خلاف بات ہے اور واقعہ کے بھی خلاف ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب مصر سے کنعان کی طرف ہجرت کی اور چالیس سال تک وہ جنگلوں میں پھرے تو کیا ۲۵ لاکھ آدمیوں کا روٹی کا انتظام چالیس پچاس سال تک ان جنگلوں میں ہو سکتا تھا؟ بیشک بعض زمانوں کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ خد اتعالیٰ نے ان کے لئے آسمان سے بٹیر اُتارے اور زمین میں ترنجبین پیدا کر دی لیکن بائبل کے بیان کے مطابق یہ خوراک سارے عرصے کے لئے مہیا نہیں ہوئی تھی۔پھر دوسرے عرصہ میں اتنے آدمیوں کے لئے خوراک کہاں سے لاتے تھے؟ پھر بائبل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک چشمہ سے پانی پی لیتے تھے۔کیا کوئی عقل تسلیم کر سکتی ہے کہ ایک ایک چشمہ سے ۲۵ لاکھ آدمی پانی سے سیراب ہو سکتا ہے۔جن علاقوں سے وہ گزرے ان میں ندیاں نہیں ہیں۔کسی کسی جگہ پر چشمے ملتے ہیں اور چشمہ میں عام طور پر چند محدود فٹ پانی ہوتا ہے کیا اس سے ۲۵ لاکھ آدمی سیراب ہو سکتے ہیں؟ ایسی خلافِ عقل