دیباچہ تفسیر القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 526

دیباچہ تفسیر القرآن — Page 45

کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔۵۸؎ خودرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا یہ حال تھا کہ جب آپ کی شادی کے موقع پر آپ کی بیوی نے اپنا مال اور غلام آپ کی خدمت میں پیش کر دئیے۔تو آپ نے فرمایا میں کسی انسان کو اپنا غلام رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔یہ کہہ کر آپ نے سب غلام آزاد کر دئیے اور ساری عمر آپ نے کوئی غلام نہیں رکھا۔۲۔احبار باب ۲۰ آیت ۲۷ میں لکھا ہے کہ:۔’’مرد یا عورت جس کا یار دیو ہے یا جادوگر ہے تو دونوں قتل کئے جاویں، چاہئے کہ تم اُن پر پتھرائو کرو اور اُن کا خون اُنہی پر ہووے‘‘۔اِسی طرح خروج باب ۲۲ آیت ۱۸ میں لکھا ہے کہ:۔’’ تُو جادوگروں کو جینے مت دے‘‘۔یہ کیسی خلافِ عقل تعلیم ہے اور پھر ظالمانہ بھی۔اگر جادوگر سے مراد یہاں ہتھکنڈے دکھانے والے لوگ ہیں تو وہ ایک معصوم پیشہ لوگ ہیں۔انسان کی مشوش زندگی میں کبھی کبھی ہنسی اور مذاق کا وقت بھی آجاتا ہے۔اُس وقت یہ لوگ اپنی دیرینہ مشقوں کے ذریعہ سے لوگوں کی توجہات کو زیادہ سنجیدہ مسائل سے اپنے ہتھکنڈوں کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔اس بے ضرر پیشہ کو قتل کا موجب قرار دینا انصاف کی تعلیم نہیں کہہ سکتے۔اور اگر جادوگر سے مراد وہ روایتی جادوگر ہیں جو مرد کو بیل اور عورت کو چڑیا بنا دیتے ہیں تو یہ تعلیم نہ صرف احمقانہ ہے بلکہ ظالمانہ بھی۔کیونکہ ایسے جادوگر نہ کبھی ہوئے اور نہ کبھی ہوں گے اور کسی کی طرف ایسے جادو منسوب کر کے قتل کر دینا ظالمانہ فعل ہے۔استثناء باب ۷ آیت ۲ میں لکھا ہے:۔’’ جبکہ خدا وند تیرا خداا نہیں تیرے حوالہ کرے تو تُو اُنہیں ماریو اور حرم کیجیئو نہ تو ان سے کوئی عہدکریو اور نہ ان پر رحم کریو ‘‘۔ایک مغلوب دشمن کے متعلق یہ کیسی ظالمانہ تعلیم ہے۔تمام دشمنوں کو قتل کر دینا، ان کے ساتھ کسی قسم کا عہد نہ کرنا اور ہر قسم کے رحم سے انہیں محروم کرد ینا یہ ظلم بادشاہوں کا فعل تو ہو سکتا