دیباچہ تفسیر القرآن — Page 35
یہودی اور عیسائی علماء کا عزرا کے حافظہ کے متعلق یہ خیال تھا تو یہودی اور عیسائیوں کے عوام الناس اور دوسری اقوام کے لوگ اس پر کیا تسلی پا سکتے ہیں اور جس کتاب کی سند ایسی ہو وہ روحانی معاملات میں کیونکر لوگوں کی تشفی کا موجب ہو سکتی ہے۔اندرونی شہادت کہ موجودہ تورات اصلی تورات نہیں اب میں بائبل کی اندورنی شہادت کو لیتا ہوں کہ وہ بھی اِس بات پر دلالت کرتی ہے موجودہ تورات حضرت موسٰی علیہ السلام پر نازل شد ہ کتاب نہیں۔اس بارہ میںسب سے اہم اور واضح وہ دلیل ہے جو استثناء باب ۳۴ میں حضرت موسٰیؑ کی وفات کو بیان کرتی ہے۔اس آیت میں لکھا ہے: ’’ سو خدا وند کا بندہ موسیٰ خدا وند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا اور اُس نے اُسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا، پر آج کے دن تک کوئی اُس کی قبر کو نہیں جانتا‘‘۔۵۳؎ یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ اس کا مضمون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سینکڑوں سال بعد استثناء میں بڑھایا گیا ہے بھلا کون عقلمند یہ تسلیم کر سکتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسٰی ؑ کو الہام میں فرمایا ہو کہ آج تک تمہاری قبر کوئی نہیں جانتا۔کیا کسی زندہ انسان سے ایسا کلام کیا جا سکتا ہے؟ اور پھر کیا ’’ آج تک ‘‘ کا لفظ اس بارہ میں خود سے کو مخاطب کر کے کہا جا سکتا ہے؟ پھر آیت ۸ میں لکھا ہے: ’’ سو بنی اسرائیل موسٰی کے لئے موآب کے میدانوں میں تیس دن تک رویا کئے اورا ن کے رونے پیٹنے کے دن موسیٰ کے لئے آخر ہوئے‘‘۔۵۴؎ یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ یہ موسیٰ کا کلام نہیں۔موسیٰ کی کتاب میں بعد میں داخل کیا گیا ہے۔پھر آیت ۱۰ میں لکھا ہے: ’’ اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ کی مانند کوئی نبی نہیں آیا جس سے خدا وند آمنے سامنے آشنائی کرتا‘‘۔یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ یہ حضرت موسیٰ کا الہام نہیں بلکہ ان کی وفات کے کئی سَو سال بعد کسی نے یہ آیت حضرت موسیٰ کی کتاب میںد اخل کی ہے ممکن ہے وہ عزرا ہی ہوںاور ممکن ہے